Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / دارجلنگ پہاڑیوں میں بدامنی میں شدت، احتجاجیوں کی پولیس سے جھڑپ

دارجلنگ پہاڑیوں میں بدامنی میں شدت، احتجاجیوں کی پولیس سے جھڑپ

گورکھا لینڈ جن مکتی مورچہ سربراہ گرونگ اور دیگر پارٹی کارکنوں کے مقامات پر پولیس کے دھاوے، بڑی تعداد میں ہتھیار ضبط
دارجلنگ (مغربی بنگال) 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) دارجلنگ کی پہاڑیوں میں گورکھا علیحدگی پسند مہم بڑھ کر آج تشدد کی شکل اختیار کرگئی جیسا کہ احتجاجیوں اور ریاٹ پولیس نے ایک دوسرے پر سنگباری کی جبکہ اِس تحریک کے سربراہ سے تعلق رکھنے والے مقامات سے سلسلہ وار دھاوؤں میں متعدد ہتھیاروں کا پتہ چلایا گیا۔ ریاست مغربی بنگال کی دارجلنگ پہاڑیوں میں سے ایک علاقہ کو الگ کرتے ہوئے علیحدہ گورکھا لینڈ اسٹیٹ بنانے کے لئے جی جے ایم کا مطالبہ تیزی سے بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہورہا ہے اور چیف منسٹر ممتا بنرجی کے لئے درد سر بنتا جارہا ہے۔ نیز گرمائی سیزن کے عروج کے دوران اِس اہم سیاحتی صنعت کے مفلوج ہوجانے کا اندیشہ پیدا ہورہا ہے۔ جی جے ایم جنرل سکریٹری روشن گیری نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں موجودہ صورتحال ریاستی حکومت کی پیدا کردہ ہے۔ وہ ہمیں بھاری پولیس فورس کا استعمال کرتے ہوئے دبادینا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکز اور ریاستی حکومت دونوں کو اِس سیاسی مسئلہ کی یکسوئی کرنی چاہئے۔ کہر سے بھرے دارجلنگ کی پہاڑی سڑکوں پر جی جے ایم کارکنوں نے نیم فوجی دستوں کے ساتھ جھڑپ کی اور کچھ فاصلے سے اُن پر پتھراؤ کیا۔

پولیس والوں نے بھی جواب میں سنگباری کی جبکہ قریب میں ایک کار جلادی گئی۔ یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا یہ کار کسی عام شہری کی ہے یا یہ پولیس کی گاڑی ہے۔ قبل ازیں دن میں پولیس نے زائداز 300 ہتھیار برآمد کئے جن میں تیریں اور دھماکو مادہ شامل ہے۔ یہ برآمدگی گورکھا جن مکتی مورچہ کے سربراہ بمل گرونگ سے تعلق رکھنے والے مختلف مقامات پر دھاوؤں کے دوران ہوئی۔ اِس علیحدگی پسند گروپ نے دارجلنگ کے پہاڑی علاقوں میں غیر معینہ بند کی اپیل کر رکھی ہے۔ پولیس نے کہاکہ آج دارجلنگ کے علاقوں سنگماری اور پاتلیباس میں کئے گئے دھاوؤں کے دوران بعض پارٹی کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ یہ واقعات گرونگ کے بیان کے ایک روز بعد پیش آئے ہیں جس میں اُنھوں نے کہاکہ اُن کے گروپ کی مہم علیحدہ گورکھا لینڈ ریاست تشکیل پانے تک نہیں رُکے گی۔ اُنھوں نے سیاحوں کو دارجلنگ کے دورہ سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے، جو ریاست مغربی بنگال کا چائے کی کاشت والا خطہ ہے اور ہندوستان میں نہایت مقبول سیاحتی مقامات میں بھی شامل ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ گرونگ اور دیگر جی جے ایم کارکنوں کے بعض مقامات پر دھاوے کئے گئے ہیں۔ ہم نے یہ دھاوے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کئے۔ یہ کارروائی ہنوز جاری ہے۔ ہم نے چند جی جے ایم کارکنوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ تاہم پولیس نے گرونگ کی قیامگاہ پر دھاوا کئے جانے کی تردید کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT