Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / داعش سے مبینہ روابط ، پانچ نوجوانوں کی تحویل ختم

داعش سے مبینہ روابط ، پانچ نوجوانوں کی تحویل ختم

نامپلی کریمنل کورٹ میں آج پیشکشی ، اہم ثبوت حاصل کرنے پولیس کا دعویٰ
حیدرآباد۔11 جولائی (سیاست نیوز) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے داعش سے روابط کے الزام میں گرفتار پرانے شہر کے پانچ نوجوانوں کی 12 دن کی پولیس تحویل کے ختم ہونے پر انہیں کل نامپلی کرمنل کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ یکم جولائی کو چوتھے ایڈیشنل میٹروپولیٹن سیشن جج نے محمد ابراہیم یزدانی، حبیب محمد، محمد الیاس یزدانی، عبداللہ بن احمد العمودی عرف فہد اور مظفر حسین  رضوان کو 12 جولائی تک این آئی اے تحویل میں دے دیا تھا۔ پولیس تحویل کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی کے عہدیداروں نے گرفتار شدہ نوجوانوں کو ریاست کے مختلف مقامات پر لے جاکر وہاں سے بطور شواہد بعض دستاویزات ضبط کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں گرفتار نوجوانوں کے مکان سے اسلحہ اور کمپیوٹر وغیرہ بھی برآمد کئے جانے کا بھی ادعا کیا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس تحویل کے دوران پانچوں نوجوانوں نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ فہد نے چارمینار بس اسٹاپ کے قریب ایک دکان سے 9 ایرسیل کے سم کارڈس حاصل کئے جبکہ اسی علاقہ سے 5 چین میں تیار کردہ موبائل فونس بھی خریدے تھے۔ الیاس یزدانی نے مبینہ طور پر بی بی بازار چوراہے سے ترازو خریدا تاکہ بم تیار کرنے کیلئے دھماکو مادے کا وزن کی پیمائش کی جاسکے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ابراہیم یزدانی ایک ویب سائیٹ کے ذریعہ داعش کے اعلیٰ کاروں سے مسلسل ربط میں تھا جس کے نتیجہ میں اسے دھماکو مادہ اور اشیاء فراہم کئے گئے تھے۔ این آئی اے تحویل ختم ہونے پر کل انہیں دوبارہ نامپلی کرمنل کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ان نوجوانوں کے افراد خاندان نے این آئی اے کے الزامات کو غلط قرار دیاہے ۔

TOPPOPULARRECENT