Thursday , September 21 2017
Home / عرب دنیا / ’’داعش‘ مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے‘‘

’’داعش‘ مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے‘‘

قبطی عیسائیوں پر فائرنگ کی مذمت ، صدر مصر عبدالفتاح السیسی کا بیان

قاہرہ۔ 27 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے جمعہ کو قبطی عیسائیوں کی ایک بس پر اندھا دھند فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کی جانوں سے کھیلنا ’داعش‘ کا مشغلہ ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں دست وگریباں کرنا چاہتی ہے۔صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ شام میں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کا کھیل ختم ہوگیا اور اب یہ کھیل مصر کی سرزمین میں منتقل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔صدر السیسی نے کہا کہ دہشت گردوں کی جانب سے بسوں اور عبادت گاہوں میں دہشت گردی کرنا مصر کو ناکام ریاست بنانا، مصری قوم اور حکومت کے عزم کو شکست دینا ہے۔السیسی نے کہا کہ گذشتہ دو سال کے دوران لیبیا سے مصر داخل ہونے والی عسکریت پسندوں کی ایک ہزار گاڑیوں کو تباہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے مصری قوم اور وطن کی حفاظت کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہشت گردوں نے المینا میں فوجی تنصیبات پرخطرناک ضرب لگانے کی مذموم کوشش کی ہے۔صدر السیسی نے کہا کہ ان کی حکومت مصر میں دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ اندرون ملک دہشت گردوں کو تربیت دینے والے تمام مراکز کو تباہ کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لیبیا میں سابق نظام حکومت کے خاتمے کے بعد افراتفری ہے جس کے خطرات مصر کو بھی لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے مصر مرکز اعتدال می حمایت اور مدد کرتا رہے گا۔مصری صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کی شر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کا ساتھ دے۔
داعش کے 3 شدت پسند ہلاک :پنٹاگن
واشنگٹن۔27مئی(سیاست ڈاٹ کام )امریکہ کے محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر پنٹاگن نے بتایا کہ عراق اور شام میں اتحادی فوج کی کارروائی میں داعش کے تین بڑے شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں ۔پنٹاگن نے کل بتایا کہ اتحادی فوج کی گزشتہ دوماہ کی کارروائی میں داعش کے مصطفی، ابو عاصم الجزیری اور ابو خطاب الراوی کو ہلاک کیاگیا۔
پنٹاگن کے مطابق بنیادی طور پر ترکی کا رہنے والا مصطفی شام کے میادن میں 27 اپریل کو ہلاک ہوا۔ الجیریائی نژاد الجزیری بھی میادن میں ہی 11مئی کو ہلاک کیا گیا جبکہ داعش کا سینئر لیڈر الراوی عراق کے القائم میں ہلاک ہوا ۔18مئی کو ہلاک کئے گئے الراوی کی شہریت کا پتہ نہیں چل سکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT