Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / داعش میں شمولیت کے لیے ایک ہندو لڑکی کی دلچسپی

داعش میں شمولیت کے لیے ایک ہندو لڑکی کی دلچسپی

دختر کو راہ راست پر لانے کیلئے سابق فوجی عہدیدار انٹلی جنس سے رجوع
نئی دہلی ۔ 22 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : قومی دارالحکومت میں فوج کے ایک سابق افسر نے قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) کو متنبہ کیا ہے اس کی بیٹی داعش میں شرکت کے لیے جانا چاہتی ہے ۔ میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا کہ بیٹی کی طرف سے داعش میں شرکت کا عندیہ ظاہر ہونے کے بعد فوجی افسر نے ایجنسی کو صورتحال سے واقف کرایا ۔ اس لڑکی کی عمر تقریبا 25 سال ہے اور غیر مسلم ہے ۔ اس نے حال ہی میں دہلی یونیورسٹی کے ایک نامور کالج سے گریجویشن مکمل کیا ہے ۔ ادھر کے کئی ہفتوں سے دہلی میں انٹلی جنس بیورو کے افسران اسے یہ سمجھانے میں لگے ہوئے ہیں کہ دولت اسلامیہ میں شرکت کا خیال کوئی اچھا خیال نہیں ہے ۔ اس کا باپ ایک ریٹائر لیفٹننٹ کرنل ہے وہ گریجویشن کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے تین سال کے کورس کے لیے آسٹریلیا گئی تھی ۔ وہاں سے لوٹ کر آئی تو بالکل بدلی ہوئی ہے ۔ ایک انگریزی اخبار نے انٹلی جنس ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس کے باپ نے قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے سے رجوع کیا اور اسے بیٹی کی ساری سرگرمیوں سے واقف کرایا ۔ اسی کے ساتھ یہ درخواست بھی ہے کہ سلامتی ایجنسی اس کی بیٹی کو سمجھائیں اور اس کے یہاں جو انتہا پسندی آگئی ہے اسے دور کریں ۔ رپورٹ کے مطابق این آئی اے نے انٹلی جنس بیورو سے رابطہ قائم کیا اور یہ معاملہ اس کے سپرد کردیا ۔ کئی مہینہ پہلے ہی بات ہے کہ اچانک لیفٹننٹ کرنل نے اپنی بیٹی کے کمپیوٹر پر داعش سے تعلق رکھنے والے کچھ انٹرنیٹ مواصلات دیکھے ۔ اس نے مزید چھان بین کی تو یہ سچائی کھلی کہ اس کی بیٹی داعش کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے والوں کے ساتھ رابطے میں ہے ۔ اور داعش میں شرکت کے لیے شام جانے کا منصوبہ بنالیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس لڑکی کا منصوبہ مذہب تبدیل کر کے آسٹریلیا کے راستے شام جانے کا تھا ۔ انٹلی جنس بیورو کے افسران اس لڑکی سے مل کر کئی بار اسے سمجھا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ حال ہی میں متحدہ عرب امارات سے دس نوجوانوں کے ایک گروپ کو اس الزام پر ملک بدر کر کے ہندوستان واپس بھیجا گیا ہے کہ وہ امارات میں داعش کے لیے پروپگنڈہ کررہے تھے ۔ ان میں دو ہندو ہیں ۔ گوکہ حکام نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کا معاملہ الگ ہے کیوں کہ وہ لوگ اس بنیاد پر نگاہوں میں آگئے کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی کر رکھی تھی اور پیغامات کا تبادلہ کررہے تھے جو داعش کے لیے پروپگنڈہ کررہے ہیں ۔ لیفٹننٹ کرنل کی اس جواں سال بیٹی کا کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکام نے داعش کی انتہا پسندی پھیلانے کی آن لائن کوششوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT