Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / داعش کا جہاد امریکہ کی نیابتی جنگ

داعش کا جہاد امریکہ کی نیابتی جنگ

ظفر آغا
پچھلے ہفتے پیرس اور اس ہفتے مالے ، دہشت گردی کا ایک سلسلہ ہے جو ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا ۔ افغانستان سے یوروپ اور اب افریقہ تک مسلم نوجوان دہشت کے رنگ میں رنگتا جارہا ہے ۔ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام اور مسلمان دنیا میں بدنام ہورہے ہیں۔ خود کو جہادی کہنے والے نہ جانے کون سے اسلام کو سپر بنا کر جہاد کررہے ہیں کہ نا تو ان کے اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی کامیابی ہورہی ہے اور نہ ہی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا سر بلند ہورہا ہے ۔ بلکہ اسکا سب سے زیادہ خمیازہ خود مسلمانوں کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔ ابھی فرانس میں جو دہشت پھیلی اس کا سب سے زیادہ نقصان ان مسلم پناہ گزینوں کو اٹھانا پڑا جو اپنے ملک کی خانہ جنگی سے بے حال ہو کر یوروپ میں پناہ ڈھونڈ رہے تھے ۔ اب ذرا سوچئے ان مسلم پناہ گزینوں کے بارے میں جو سمندر میں کشتیوں میں بیٹھ کر اپنی جان کی بازی لگا کر شام سے یوروپ پہنچے تھے ، یکایک پیرس حملے کے بعد ان کو یوروپ میں اب کہیں پناہ نہیں مل رہی ہے  تو پیرس کا خمیازہ زیادہ کون بھگت رہا ہے ؟ وہ سو ڈیڑھ سو افراد جو مارے گئے یا پھر وہ لاکھوں مسلم پناہ گزین جن پر اب یوروپ کے دروازے بند ہوگئے ؟ ظاہر ہے کہ عالم اسلام میں جو بے سر پیر کا جہاد جاری ہے اس کا پہلا بڑا نشانہ خود مسلمان ہیں ۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے خود مسلمان اس جہادی فکر کے خلاف جہاد کریں ۔

لیکن اس سے قبل کے جہادیوں کے خلاف کوئی حکمت عملی تیار ہو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان جہادیوں کی شکایت کیا ہے ۔ دراصل عالم اسلام ، عالمی سپر پاورز کی رسہ کشی کا ایسا شکار ہوا کہ وہاں رہنے والوں کی زندگی حرام ہوگئی ۔ دور حاضر کی دہشت گردی پر اگر نگاہ ڈالیں تو جہاد کا نعرہ 1980 کی دہائی میں افغانستان سے شروع ہوا ۔ اور یہ شروعات اس وجہ سے ہوئی کہ افغانستان میں روسی فوج آگئی ۔ امریکہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور یہ حکمت عملی بنائی کہ پاکستان کے فوجی سربراہ ضیاء الحق کے کاندھوں پر سوار ہو کر سویت یونین کے خلاف افغانستان میں ایک Proxy war چھیڑ دو اور امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف proxy war کے لئے پاکستان کی سرزمین سے جہاد کا نعرہ بلند کروایا گیا جس کے لئے سارے عالم اسلام سے جہادی اکٹھا کئے گئے ۔ انہیں جہادیوں میں ایک شخص تھا جس کا نام اسامہ بن لادن تھا جس نے بعد کو القاعدہ بنا کر خود امریکہ کو جہاد کا نشانہ بنایا ۔ الغرض جہاد کی جڑ بوئی امریکہ نے ،جہادیوں کے ذریعہ افغانستان میں سوویت یونین کا خاتمہ کیا ۔

جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوگیا تو اب امریکہ کی حکمت عملی یہ بنی کہ بہ حیثیت واحد سپر پاور ان حاکموں کا خاتمہ کیا جائے جو سوویت یونین کی پناہ میں امریکہ کو اپنے ممالک میں داخل نہیں ہونے دیتے ہیں ۔ امریکہ دنیا کی دولت اور ذخائر پر تنہا قابض ہونے کا خواب دیکھنے لگا ۔ اس سلسلے میں تیل دور حاضر کی وہ دولت اور ذخیرہ ہے جس کی ضرورت کسی بھی ملک کو سب سے زیادہ ہے  ۔ پہلے امریکہ نے صدام حسین کو کویت کے حملے کی سزا دی ۔ بس یہی وقت ہے جب امریکہ نے تقریباً سارے عرب ممالک میں اپنی فوجیں تعینات کردیں ۔ یہ وہ موقع تھا جس نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے خلاف کھڑا کردیا جس کے بعد اسامہ نے القاعدہ کی داغ بیل رکھی ۔ الغرض جب صدام نے امریکہ کے پہلے حملے کے بعد بھی گھٹنے نہیں ٹیکے تو آخر 2003 میں صدر بش نے عراق پر سیدھا حملہ کیا ۔ جس میں آخر صدام کو پھانسی دی گئی اور وہاں کم از کم ایک لاکھ بے گناہ مارے گئے اور آج بھی عراق خانہ جنگی کا شکار ہے  ۔اس طرح عراق کے تیل پر امریکہ کا قبضہ تو ہوگیا لیکن جس طرح عراق میں عرب ، اسلام اور مسلمانوں کو ذلیل و خوار کیا گیا اس سے امریکہ کے خلاف مسلم ممالک میں نفرت پھیل گئی ۔ اس طرح افغانستان اور پاکستان کے بعد عراق جہاد کا ایک نیا مرکز بن گیا ۔
اب جب سوویت یونین کے حامی صدام حسین ختم کردئے گئے تو پھر امریکہ کی قیادت میں مغربی فوجوں نے دوسرے سوویت حامی لیبیا کے کرنل معمر قذافی اور شام کے بشار الاسد کے خلاف سازشیں شروع کردیں ۔ پہلے قذافی مارے گئے اور لیبیا جہادیوں کا مرکز بنا پھر بشار الاسد کے خلاف جہادیوں کا امریکہ کی مدد سے ایک محاذ بنایا گیا ۔ اسی دوران عالم عرب میں جمہوری لہر چل پڑی جس سے امریکہ کو خطرہ ہوگیا کہ مصر جیسے امریکہ کے حامی حاکم ختم ہوسکتے ہیں ۔ بس پھرکیا تھا یکایک جیسے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف طالبان اور مجاہدین پیدا ہوگئے تھے ،ویسے ہی راتوں رات عراق اور شام میں ابوبکر البغدادی کی قیادت میں ایک مسلم خلافت کا قیام ہوگیا جس کے جہادی اب کبھی پیرس اور کبھی مالے میں دہشت کا قہر پھیلارہے ہیں۔

یعنی جہاد امریکہ کی proxy war کا دوسرا نام ہے اور یہ جہادی امریکی foot soldiers ہیں جو عالم اسلام میں جمہوری اور جدید ریاستوں کے قیام کو روکنے کے لئے مسلم نوجوانوں کے غصے کو جہاد کے نام پر دہشت کے راستے پر موڑ رہے ہیں تاکہ پورے عالم اسلام پر امریکہ کا قبضہ برقرار رہے اور تیل پر امریکی کمپنیاں حاوی رہیں ۔ افسوس کہ یہ بات کثیر مسلم آبادی کو سمجھ میں نہیں آتی ۔ البغدادی کوئی خلیفہ نہیں ، دراصل امریکی ایجنٹ ہے جو جہاد کے پرچم تلے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرکے امریکہ اور مغرب کی مدد کررہے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ امریکہ جس نے اپنی دولت جھونک کر صدام حسین جیسے حاکم کو موت کے گھاٹ اتار دیا وہ بھلا البغدادی اور اس کی خلافت کو اب تک نیست و نابود نہ کردیتا ۔اس لئے عالم اسلام کے حق میں یہی ہے کہ وہ دہشت گرد جہادیوں کے خلاف خود ایک جہاد چھیڑدے  ۔ مذہبی جنون اور ایسی تعلیم جو مذہبی جنون پیدا کررہی ہے اس کے خلاف پورے عالم اسلام میں ایک تحریک چلنی چاہئے ۔ اس سلسلے میں مدارس اور علماء کا خاص رول ہے جس کو آگے آکر موجودہ طرز کے جہاد اور دہشت کے خلاف مورچہ سنبھالنا چاہئے ۔ پھر جہادیوں کو جو مالی امداد مل رہی ہے وہ فوراً بند ہونی چاہئے ۔ اس سلسلے میں بھی یہ کیمپئن ہونی چاہئے کہ جہادیوں کی مدد مغرب کی مدد اور مسلم دشمنی ہے ۔ پھر سارے عالم عرب اور مسلم دنیا میں خود امریکہ نواز حاکموں کے خلاف جدید طرز کی سیاست کا چلن ہونا چاہئے جس میں جمہوریت اور خود اختیاریت کو ترجیح دی جانی چاہئے ۔

عالم اسلام میں مغرب کے خلاف غصے کی ایک لہر دوڑ رہی ہے ۔ لیکن مغرب نے مسلمانوں کے اس مغرب مخالف غم و غصے کو بہت ہی چالاکی سے جہاد کی شکل دے دی ہے  جس سے ساری دنیا میں مسلمان مغرب کے خلاف ایک سیاسی جد وجہد کے بجائے دہشت کی حکمت عملی کا استعمال کررہا ہے جو اسلام اور مسلمان دونوں کے خلاف دنیا میں نفرت کو جنم دے رہا ہے ۔ اس سائیکل کو توڑنے کے لئے مسلم نوجوانوں کو پہلے خود البغدادی جیسے جہادیوں سے لڑنا ہوگا تاکہ عالم عرب میں دوسرا بہار عرب جنم لے جس کے بعد مسلم ممالک میں کم از کم جمہوری نظام تو قائم ہوسکے ۔ جمہوریت کے بغیر مسلم نوجوانوں کا غصہ جہاد کی شکل لیتا ہے ۔ اس لئے عالم اسلام کو دہشت گردانہ جہاد نہیں بلکہ جمہوری جہاد کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے مغرب بھی ہارے گا اور اس کے اپنے ممالک میں بیٹھے مغربی ایجنٹوں کا بھی خاتمہ ہوگا ۔ یہ کام دہشت گردی سے نہیں بلکہ جمہوری جد وجہد سے ہی ممکن ہے اور تب ہی اسلام اور مسلمان دونوں پروان بھی چڑھیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT