Tuesday , October 17 2017
Home / دنیا / داعش کو تباہ کرنے کا عہد‘اسلام سے جنگ کی تردید

داعش کو تباہ کرنے کا عہد‘اسلام سے جنگ کی تردید

اسلامی اقدار اور اصولوں کی غلط تاویل کی کھل کر مخالفت کا علمائے دین کو مشورہ ‘ اوباما کا قوم سے خطاب
واشنگٹن۔7ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے کا عہد کرتے ہوئے صدر اوباما نے آج امریکی شہریوں کو تیقن دیا کہ امریکہ دہشت گردی کے خطرہ کے ’ نئے مرحلے ‘ پر قابو پالے گا جو یہاں اور پوری دنیا میں ’ ذہنوں کو زہریلا ‘ بنانے کی کوشش کررہا ہے ۔ وائیٹ ہاؤز کے اوول آفس سے قوم کے نام خطاب میں اوباما نے شام اور عراق کو کثیر تعداد میں فوج روانہ کرنے کی تردید کردی تاکہ ’ ہلاکت خیز فرقے ‘ کو شکست دی جاسکے ۔ اوباما نے کہا کہ ان کی حکمت عملی دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے کی ہے اور اس کو امریکی فوجی کمانڈرس اور انسداد دہشت گردی ماہرین کی تائید حاصل ہے ۔ علاوہ ازیں 65 ممالک دہشت گرد تنظیم کو نشانہ بنانے امریکی زیر قیادت اتحاد میں شامل ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم داعش کو تباہ کردیں گے اور اگر اس قسم کی دیگر تنظیمیں امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہے تو انہیں بھی تباہ کردیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فتح صرف تلخ بات چیت پر منحصر نہیں ہے ‘ ہم اپنی اقدار کو ترک نہیں کریں گے اور نہ کسی سے ڈریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ جیسے گروپس کو اسی کی اُمید ہے ۔ اس کے بجائے ہم طاقتور اور چالاک بن کر انتھک اور صبر و تحمل کے ساتھ کوشش کریں گے اور غالب آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی طاقت کا ہر پہلو اسی کی عکاسی کرتا ہے ۔ اوباما نے کہا کہ ہم زیادہ طویل اور زیادہ مہنگی زمینی جنگ برائے عراق و شام میں ملوث نہیں ہونگے کیونکہ دولت اسلامیہ جیسے گروپس ایسا چاہتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ ہمیں میدان جنگ میں شکست دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم جو حکمت عملی اختیار کررہے ہیں یعنی فضائی حملے ‘ خصوصی افواج اور مقامی فوج کے تعاون سے کام کرنا جو خود اپنے ملک کے کچھ علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کرنے جنگ کررہے ہیں ۔ اسی طرح ہم زیادہ پائیدار فتح حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس کیلئے ہمیں نئی امریکی نسل کو بیرون ملک جنگ کرنے اور ہلاک ہونے روانہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہماری نئی نسل مزید دس سال غیر ملکی سرزمین پر تعینات رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ اسلام کی بات نہیں کرتا ۔ انہوں نے اسلامی قائدین پر جن کا تعلق دنیا بھر سے ہے زور دیا کہ دہشت گرد تنظیم اور اسکے نظریہ کے خلاف کھل کر بیانات دیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو اعتماد ہے کہ وہ دہشت گرد سازشیوں کا ہمارے ملک میں پتہ چلائے گی ۔ جب بھی ضروری ہو ایسا کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سال سے دہشت گردی کا خطرہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے کیونکہ دولت اسلامیہ جیسے گروپس زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں ۔ ہم دہشت گردوں کی دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں کو زہریلا بنادینے کی کوشش دیکھ رہے ہیں ۔ جیسے کہ ہوسٹن کی جنگ کے دوران بم حملے اور برناڈینو قاتلوں کا ٹولہ اوباما نے کیلیفورنیا کی فائرنگ کو جس میں 14 افراد ہلاک ہوگئے دہشت گردی کی کارستانی قرار دیا ۔ انہوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کو اسلام کے خلاف جنگ تسلیم کرنے سے انکار کردیا جس کا مطالبہ ری پبلیکن امیدواروں کی جانب سے کیا جارہا ہے تاہم انہوں نے دنیا بھر کے علمائے دین سے اپیل کی کہ وہ فیصلہ کن انداز میں نفرت انگیز نظریہ کو اور دولت اسلامیہ و القاعدہ جیسے گروپس کو جو اسے پروان چڑھاتے ہیں مسترد کردینے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم قائدین کو نہ صرف ایسی پُرتشدد کارروائیوں کی مخالفت کرنی ہوگی بلکہ اسلام کی مذہبی اقدار جیسے رواداری ‘ احترام باہمی اور انسانی وقار کی غلط تاویل کرنے والے افراد کے خلاف کھل کر بات کرنی ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT