Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / داعش کو 40 ممالک کی مالی مدد، جی ۔ 20 ممالک بھی شامل

داعش کو 40 ممالک کی مالی مدد، جی ۔ 20 ممالک بھی شامل

تیل کے کاروبار سے دہشت گرد تنظیم کو ماہانہ 50 ملین ڈالر کی آمدنی، پوٹن کا سنسنی خیز انکشاف
ماسکو ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں حالیہ منعقدہ جی ۔  20 چوٹی کانفرنس میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی طرف سے کئے گئے چونکا دینے والے انکشاف کے سبب سرکردہ عالمی قائدین کا یہ اجتماع نہ صرف ایک مخالفت دہشت گردی چوٹی کانفرنس میں تبدیل ہوگیا تھا بلکہ ان کے ریمارکس دنیا بھر میں موضوع بحث بن گئے ہیں۔ روسی صدر پوٹن نے یہ حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے ساری دنیا کو چونکا دیا کہ دنیا کے تقریباً 40 ممالک کی جانب سے اسلامک اسٹیٹ (داعش) کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ان ملکوں میں خود جی ۔ 20 گروپ سے تعلق رکھنے والے چند ممالک بھی شامل ہیں۔ پوٹن نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس انٹلیجنس ثبوت اور سٹلائٹ تصاویر موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے انٹلیجنس معلومات کے علاوہ دہشت گرد تنظیم داعش کی مدد کرنے والے ملکوں کے ناموں کا انکشاف نہیں کیا۔

باور کیا جاتا ہیکہ داعش کو عراق اور شام میں اپنے زیرقبضہ تیل کے چشموں سے نکالے جانے والے خام تیل کی فروخت سے ماہانہ 50 ملین امریکی ڈالر کی آمدنی ہورہی ہے۔ انطالیہ میں منعقدہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کے بعد پوٹن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’میں اپنے ساتھیوں (دیگر سربراہان ممالک) کو سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر دکھا چکا ہوں، جس سے تیل اور پٹرولیم کے مارکٹ میں ہونے والے غیرقانونی کاروبار کی اصل حد و حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ چار تا پانچ ہزار میٹر کی بلندی سے جب ہم دیکھتے ہیں تو وہاں (داعش کے زیرقبضہ عراقی و شامی علاقوں میں) درجنوں کیلو میٹر تک گاڑیوں کے لامتناہی قافلے نظر آتے ہیں‘‘۔ پوٹن نے مزید کہا کہ چند مسلح اپوزیشن گروپوں نے روس کی تائید و مدد سے آئی ایس کے خلاف سرگرمی کے ساتھ کارروائیوں کو ممکن تصور کرتے ہیں اور ہم فضائی مدد دینے کیلئے تیار ہیں۔ اگر یہ ہوتا ہے تو بعدازاں سیاسی حل کیلئے کام کرنے ایک اچھی بنیاد فراہم ہوسکتی ہے‘‘۔ روسی صدر پوٹن کے اس اعلامیہ کے بعد امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے آئی ایس (داعش) کے ریفیولنگ ٹرکس کے قافلے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا اور 166 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ ان حملوں کے وقت کے بارے میں شبہ ہے کیونکہ امریکہ نے قبل ازیں یہ کہتے ہوئے فضائی کارروائی سے انکار کردیا تھا کہ اس صورت میں عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کا اندیشہ رہتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT