Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / ’داعش کیخلاف لڑائی میں امریکی مسلمان انتہائی اہم ساجھیدار‘

’داعش کیخلاف لڑائی میں امریکی مسلمان انتہائی اہم ساجھیدار‘

مسلمانوں کے خلاف ٹرمپ اور کروز کی نفرت انگیز مہم پر تنقید ، صدر اوباما کا قوم سے خطاب
واشنگٹن ۔ 26 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر براک اوباما نے وائیٹ ہاؤس کے لئے ریپبلکن پارٹی کے دو اہم دعویداروں ڈونالڈ ٹرمپ اور ٹیڈکروز کو مبہم انداز میں بالواسطہ تنقیدی حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے آئی ایس آئی ایس ( داعش ) کے خلاف لڑائی میں امریکی مسلمانوں کو ایک انتہائی اہم ساجھیدار قرار دیا ۔ اوباما نے اپنے ہفتہ وار ویب اور ریڈیو پیغام میں آج کہاکہ ’’آئی ایس آئی ایس ( داعش ) کے نفرت انگیز اور پرتشدد پروپگنڈہ کے خلاف فتح حاصل کرنا ہمارا اہم عزم ہے ۔ داعش کا پروپگنڈہ حقیقی اسلامی تعلیمات سے انحراف اور مسخ تشریحات پر مبنی ہے جس کا مقصد غیرمنصفانہ کاز کیلئے نوعمر مسلمانوں کو انتہاء پسند بنانا ہے ‘‘ ۔ اوباما نے مزید کہا کہ ’’داعش کے خلاف لڑائی کی اس مساعی میں امریکی مسلمان ہمارے انتہائی اہم ساجھیدار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو بدنام کرنے یا ہمارے ملک کیلئے ان (مسلمانوں ) کے گرانقدر کارناموں اور ہماری طرز زندگی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہم مسترد کرتے ہیں‘‘۔ امریکہ کے صدر اپنے ان ریمارکس کے ذریعہ ریپلکن پارٹی کے دو اہم صدارتی دعویدار ٹرمپ اور کروز کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کا بالواسطہ اور مبہم حوالہ دے رہے تھے ، بروسلز دہشت گرد حملوں کے بعد کروز نے امریکہ میں مسلم آبادی والے علاقوں پر سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ ٹرمپ نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ اس ملک ( امریکہ ) میں مسلمانوں کے داخلہ پر عارضی پابندی عائد کی جائے ۔ تاہم صدر اوباما نے آج بالواسطہ طورپر ان دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’ایسی کوششیں ہمارے کردار ، ہمارے اقدار ، ہماری تاریخ کے مغائر ہیں کیونکہ مذہبی آزادی کی بنیادوں پر ہمارے ملک کی تعمیر ہوئی ہے ‘‘ ۔

اوباما نے مزید کہا کہ ’’ایسے اقدامات فائدہ کے بجائے نقصان دہ ہوں گے ۔ ایسا کرنا دراصل راست طورپر دہشت گردوں کے ہاتھوں کھلونا بننا ہوگا جو ( دہشت گرد ) چاہتے ہیں کہ ایک کے بعد دیگر ہمارے خلاف حملے کریں۔ اس مقصد کے لئے انھیں ( داعش کو ) اپنے نفرت انگیز کاز کے لئے افراد کی بھرتیوں کی ایک وجہ اور ایک بہانہ کی ضرورت ہے ‘‘ ۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم کامیاب ہوں گے وہ پسپا ہوں گے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اقدار اور اپنا طرز زندگی ترک کردیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے ۔ وہ (داعش ) چاہتے ہیں کہ مستقبل کے بارے میں ہم ان کا نظریہ قبول کریں لیکن ہم انھیں خود اپنوں کی مدد سے شکست دیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مستقبل ان کا نہیں ہوتا جو تباہی چاہتے ہیں بلکہ ان کا ہوتا ہے جو تعمیر کی جرأت و حوصلہ رکھتے ہیں ۔ امریکی صدر اوباما نے کہاکہ ’’ دیگر والدین کی طرح میں بھی ایک باپ ہوں ۔ بروسلز کی دلخراش تصویروں نے میری سوچ و فکر کو میرے اپنے بچوں کی حفاظت پر مبذول کیں ۔ چنانچہ آپ کو بھی پورا بھروسہ رکھنا چاہئے کہ داعش کو شکست دینا ہماری فوج ، انٹلیجنس اور قومی سلامتی کی والین ترجیح ہے یقینا ہماری فتح ہوگی اور داعش کو شکست ہوگی۔ اوباما نے کہا کہ ’’داعش ساری دنیا کی تہذیب و تمدن کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے اور ہم اس وقت تک چین نہیں لیں گے جب تک داعش کی تمام محفوظ پناہ گاہوں کو تباہ کردیا جائے ‘‘ ۔ چنانچہ عراقی شہر موصل میں اُس کے طاقتور گڑھ میں دباؤ بڑھانے کیلئے امریکی فورسیس کی جانب سے عراقی سکیورٹی فورسیس کی مدد کی جاری ہے ۔ سکریٹری کیری شام میں جنگ کے خاتمہ کیلئے بین الاقوامی مساعی کی قیادت کررہے ہیں نیز امریکہ میں امریکی مفادات اور اس کے دوستوں و اتحادیوں کے خلاف داعش کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے کام کیا جارہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT