Sunday , September 24 2017
Home / عرب دنیا / داعش کی تباہی کا عہد، متحدہ عرب امارات کے دورہ کا آغاز

داعش کی تباہی کا عہد، متحدہ عرب امارات کے دورہ کا آغاز

کام کے بحران کا فوجی حل ناممکن، نائب صدرامریکہ جوبیڈن کا بیان
الظفرہ فوجی ہوائی اڈہ (متحدہ عرب امارات) ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر امریکہ جوبیڈن نے اپنے مشرق وسطیٰ کے دورہ کا آج آغاز کیا اور عہد کیا کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک دولت اسلامیہ کا حل نچوڑ لیں گے اور اسے تباہ کردیں گے۔ جوبیڈن نے سینکڑوں امریکی فضائیہ کے ارکان عملہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ عہد کیا جبکہ الظفرہ فوجی ہوائی اڈہ پر ڈرون طیارے گشت کررہے تھے۔ یہ ریگستان میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے قریب بڑی فوجی چوکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عراق اور شام میں داعش کا قلب نچوڑنا ہوگا تاکہ وہ اپنا زہر اس علاقہ میں اور پوری دنیا میں پھیلا نہ سکے۔ انہوں نے دولت اسلامیہ کیلئے عربی اقوال دہرائے جبکہ اس کو ’’مجرموں اور بزدلوں‘‘ کا گروہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ فوجی ہوائی اڈہ پر امریکی اور دیگر طیارے داعش کے خلاف کارروائیوں میں عراق اور شام میں حصہ لے رہے ہیں۔ جوبیڈن نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور شام کی فضاء پر آپ کی حکومت ہے۔ درحقیقت آپ پوری دنیا کی فضاء پر حکومت کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات جوبیڈن کے علاقائی دورہ کی پہلی منزل ہے۔ وہ یہاں سے مغربی کنارہ، اردن اور اسرائیل کے دورہ پر جائیں گے۔ ان کے ہمراہ ان کی شریک حیات جل بھی ہیں۔ ان کا یہ دورہ امریکی معیشت اور برقی توانائی کے مفادات کے بارے میں تبادلہ خیال پر مشتمل ہوگا۔ اس کے علاوہ ایران اور شام سے امریکہ کو جو صیانتی اندیشے لاحق ہیں، ان پر بھی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے جامع مسجد ابوظہبی کا بھی دورہ کیا اور وہاں کی ایک دیوار کا مشاہدہ کیا جس پر اللہ تعالیٰ کے 99 اسماء الحسنیٰ تحریر ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے شہر مصدر کا بھی دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ عمارات کے وزیر مملکت سلطان الجابر بھی ہیں۔ قبل ازیں ابوظہبی سے موصولہ اطلاع کے بموجب نائب صدر امریکہ جوبیڈن نے شام کی خانہ جنگی ختم کرنے کے فوجی حل کو مسترد کردیا ۔ ان کا تبصرہ آج شائع ہوا ہے جس میں سیاسی عبوری اقتدار کی منتقلی کی اپیل کی گئی ہے ۔ تاہم کہا گیا ہے کہ اس میں مشکلات پیش آئیں گی ۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے دورہ پر  روانہ ہونے سے قبل جوبیڈن نے ابوظہبی کے روزنامہ ’’ دی نیشنل ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چاہے یہ کتنا بھی مشکل کیوں نہ ہوں ہمیں سیاسی تصفیہ کی کوشش جاری رکھنا چاہیئے ۔ سعودی عرب جو شام میں کارروائیوں کی تائید کرتاہے اور متحدہ عرب امارات اس کا حلیف ہے کہہ چکے ہیں کہ وہ زمینی افواج شام امریکی کمان کے تحت روانہ کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ دولت اسلامیہ کے جہادیوں سے جنگ کرسکیں ۔ بیڈن کا تبصرہ ایسے وقت منظر پر آیاہے جب کہ صدر بشارالاسد کی حکومت اور اس کے مخالف جاریہ ہفتہ اقوام متحدہ کی زیرسرپرستی امن مذاکرات کا جنیوا میں انعقاد کررہے ہیں اور شام میں ایک کمزور جنگ بندی نافذ کی جاچکی ہے ۔ باتوں کا مقصد شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہے جس میں 2,70,000سے زیادہ افراد ہلاک ‘ لاکھوں بے گھر اور شام تباہ ہوچکا ہے ۔ جوبیڈن نے کہا کہ شام میں 27فبروری سے صلح ایسا معلوم ہوتاہے برقرار ہے لیکن یہ صلح مکمل نہیں ہے ‘ حالانکہ ملک گیر سطح پر تشدد میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن انسانی بنیاد پر امداد مایوس مستحق عوام تک پہنچانا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ تاہم امریکہ کے متحدہ عرب امارات اور اُس کے شریک چھ رکنی خلیجی تعاون کونسل کے ساتھ تعلقات خوشگوار ہیں ‘ ان کی ستائش کی جانی چاہیئے ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تاریخی نیوکلیئر معاہدہ کو جو گذشتہ سال ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طئے پایا ہے کئی چیالنج درپیش ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT