Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / دالوں، ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج

دالوں، ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج

’’اچھے دن کہاں ہیں‘‘ راجیہ سبھا میں سینئر ارکان کا حکومت سے استفسار، افراط زر کی شرح سب سے زیادہ
نئی دہلی۔21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کانگریس ایم پی پرمود تیواری نے آج کہا کہ جب حکمراں پارٹی عوام سے رجوع ہوکر ووٹ مانگے گی تو اس کو خانہ دار خواتین کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ دالوں اور ترکاریوں کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔ راجیہ سبھا وقفہ صفر کے دوران قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے پر مود تیواری نے کہا کہ بی جے پی نے کہا تھا کہ ’’اچھے دن لائے جائیں گے  اب یہ اچھے دن کہاں ہیں اب عوام کہنے لگے ہیں کہ حکومت اچھے دن کو نہیں لاسکتی اب اسے ہمارے برے دن بھی واپس کرنے ہوں گے۔ جب ملک میں صنعتی پیداوار کی شرح گھٹتی جارہی ہے افراط زر کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے جون میں جو افراط زر 5.77 فیصد تھا اب اس میں 28 ماہ کے دوران زبردست اضافہ ہوا ہے۔ برآمدات میں بھی کمی آئی ہے۔ حکومت کے تازہ ڈاٹا کے مطابق رٹیل افراط زر بڑھ رہا ہے اس کی وجہ سے ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔ دالوں اور ترکاریوں کی قیمتیں ایک عام آدمی کے قوت خریدسے باہر ہیں۔ حکومت کا بعض خاص افراد سے گٹھ جوڑ ہے جو دالوں اور ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ کرکے غریب عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ دالوں کی قیمت فی کیلوگرام 205 تا 210 ہے جبکہ ترکاریاں بھی اسی تیزی سے اونچی قیمتوں میں فروخت کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر آر بی آئی رگھورام راجن نے شرح سود کو کم کرنے پر زور دیا تھا۔ ان سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آیا انہوں نے قیمتوں اور افراط زر میں کمی کے لئے کیا کام کیا ہے۔

 

اول انہیں افراط زر کی شرح کم کرنی چاہئے۔ کانگریس کے ایک اور رکن وپیلو ٹھاکر نے ارکان پارلیمنٹ کو دیئے جانے والے فنڈس کا مسئلہ اٹھایا۔ ضلع پرشیدوں کے منتخب ارکان کو فنڈس فراہم نہیں کئے جارہے ہیں جبکہ 14 ویں فیناسن کمیشن کی ہدایات کے باعث یہ فنڈس گرام پنچایتوں کو دیئے جارہے ہیں جس کا ترقیاتی کاموں پر منفی اثر پڑرہا ہے۔ جنتادل یو کے علی انور انصاری نے وائس چانسلر کی جانب سے بنارس ہندو یونیورسٹی میں 2 سال کے لئے 15 طلباء پر پابندی عائد کرنے کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ یہ طلباء اپنی یونیورسٹی میں ایک ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے پرامن احتجاج کررہے تھے، کیوں کہ یونیورسٹی 24 گھنٹے کام نہیں کررہی ہے جیسا کہ یونیورسٹی کے پراسپکٹس میں بتایا گیا تھا۔ احتجاجی طلباء کے خلاف نصف شب میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ ڈی ایم کے لیڈر کنی موزی نے ایوان کی توجہ ایمس میں ایک پوسٹ گریجویٹ طالب علم کی مبینہ خودکشی واقعہ کو اٹھایا اور کہا کہ پولیس کہہ رہی ہے کہ یہ ایک اتفاقی خودکشی کا معاملہ ہے جبکہ اس معاملہ میں کچھ راز کو پوشیدہ رکھا جارہا ہے لہٰذا خودکشی واقعہ کی تحقیقات کروائی جانی چاہئے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر صحت جے پی ناڈا نے کہا کہ ان کی وزارت نے اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور پوسٹ مارٹم کے علاوہ ٹاگزایکالوجی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ نے بھی اس معاملہ کو اٹھایا۔ ٹی ایم اے کے لیڈر وویک گپتا نے ایوان کی توجہ ملک میں گیہوں اور چاول کی پیداوار پر پڑنے والے جراثیمی اثرات کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ ان اشیاء کو لاحق جراثیمی خطرات کو روکنے کے لئے حکومت فوری توجہ دے۔ کسانوں کو چاول اور گیہوں کو لگنے والے جراثیم کے انسداد کے لئے شعوری بیداری پیدا کی جائے تاکہ کسان فصلوں کو لگنے والی بیماری کے لئے انسدادی اقدامات کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT