Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / دختر کشی غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے منافی عمل

دختر کشی غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے منافی عمل

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ، لڑکیوں کی بہتر پرورش پر والدین کو بشارت
لکھنو۔8 جون (سیاست ڈاٹ کام) دارالعلوم دیوبند نے دخترکشی کے خلاف فتوی جاری کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا۔ دارالعلوم کے شعبہ دارالافتاء نے واضح طور پر کہا ہے کہ جنس کا پتہ چلاکر حمل ضائع کرنا اسلامی تعلیمات کے مغائر ہے۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ان اطلاعات پر کہ مسلمانوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں کافی کم ہوچکی ہے۔ 2011ء میں چھ سال تک کی عمر کے ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی تعداد 943 رہی۔ جبکہ 2001ء میں یہ تناسب ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے 950 لڑکیوں کا تھا۔ شعبہ دارالافتاء سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ لڑکیوں کے بارے میں والدین کی ذمہ داری کیا ہے اور اگر کوئی اپنی لڑکی کی پیدائش سے پہلے یا پھر حقیقی زندگی میں جان لے لے تو اسلام کی روشنی میں انہیں کیا سزاء دی جانی چاہئے۔ دارالافتاء نے کہا کہ جنس کی شناخت کرتے ہوئے اسے پیدائش سے قبل ہی ختم کردینا غیر قانونی اور حرام ہے۔ دور جاہلیت میں لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کیا کرتے تھے اور قرآن مجید میں اس طرح کی حرکت کو انتہائی مذموم قرار دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ دخترکشی کی اسلام میں ہرگز اجازت نہیں ہے اور خاص طور پر جب پیٹ میں پیدا ہونے والے بچے کی عمر چار ماہ کی ہوجائے اس کے بعد کسی ناگزیر وجہ کے بغیر حمل ساقط کرنا حرام ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں لڑکیوں کے ساتھ مساوی اور بہتر سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔

اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں پایا جاتا کہ لڑکیوں کی وجہ سے قسمت خراب یا کسی کی تذلیل ہوتی ہے۔ دارالافتاء  نے حدیث شریف کا بھی حوالہ دیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضورمحمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنی لڑکیوں کی اچھی طرح پرورش کرے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھے تو دوزخ کی آگ اسے نہیں چھوئے گی۔ دارالعلوم کے ریکٹر مولانا عبدالقاسم نعمانی نے کہا کہ اس مسئلہ پر یہ پہلا فتوی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ہزاروں فتوے جاری کئے جاچکے ہیں اور آج اس مسئلہ پر جاری کردہ فتوی بھی اسی کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دختر کشی کو پہلے ہی حرام اور قتل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن جنس کا پتہ معلوم کرنے کے بعد کہ ہونے والی لڑکی ہوگی، اسے ختم کرنا اور بھی بڑا جرم ہے۔ واضح رہے کہ دختر کشی کے بارے میں ماضی میں بھی سوالات کئے گئے تھے اور دیوبند کے بیشتر فتاوی پہلے ہی سے موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT