Sunday , September 24 2017
Home / دنیا / دراندازیاں ‘ دفاعی اندیشے چین میں وزیر دفاع کا ایجنڈہ

دراندازیاں ‘ دفاعی اندیشے چین میں وزیر دفاع کا ایجنڈہ

وزیراعظم اور وزیردفاع چین سے ملاقاتیں ‘ لداخ میں چینی سپاہیوں کی طلایہ گردی پر احتجاج متوقع

بیجنگ۔17اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) دراندازی کے بار بار واقعات اور سرحدی  طلایہ گرد پارٹیوں اور ہند ۔ چین دفاعی اندیشے وزیر دفاع منوہر پاریکر کی چینی فوجی عہدیداروں سے کل کی بات چیت کے اہم موضوعات ہوں گے ۔ منوہر پاریکر آج ایک خصوصی طیارہ کے ذریعہ شنگھائی پہنچ گئے ‘ جہاں وہ چین کے وزیر دفاع جنرل چانگ کوانگ‘ نائب صدر نشین مرکزی فوجی کمیشن جنرل پانگ چانگ لانگ اور دیگر سے بات چیت کریں گے ۔ مرکزی فوجی کمیشن 23لاکھ فوجیوں پر مشتمل پیپلز لبریشن آرمی کی اعلیٰ ترین کمانڈنگ کمیشن ہے جس کے صدر چین ژی جن پنگ ہیں ۔ منوہر پاریکر وزیراعظم لی کے قیانگ سے بھی ملاقات کریں گے ۔ بعد ازاں وہ چین کے حال ہی میں قائم شدہ  متحدہ مغربی کمانڈ فوجی ہیڈ کوارٹرس کا بھی دورہ کریں گے جس کے دائرہ کار ہندوستان سے متصل سرحد تک ہے ۔ وزیر دفاع کے ساتھ فوج اور بحریہ کے سینئر عہدیدار اور وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدیدار بھی وفد کی شکل میں شامل رہیں گے ۔

ہندوستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ بات چیت میں پورے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے ۔ چینی فوجیوں کی جارحانہ طلایہ گردی کے بارے میں اندیشوں کا ازالہ کیا جائے گا ‘ خاص طور پر لداخ کے علاقہ میں چینی فوج کی دراندازی بات چیت کا سرفہرست موضوع ہوگی ۔ چین کسی بھی قسم کی دراندازی کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے فوجی صرف چینی علاقہ میں جو متنازعہ سرحد کیساتھ 3488کلومیٹر طویل ہے طلایہ گردی کرتے ہیں ۔ ہندوستان اور چین حال ہی میں سالانہ مذاکرات ورکنگ میکانزم برائے مشاورت و تعاون کا انعقاد بھی کرچکے ہیں تاکہ فوجیوں کی جانب سے جارحانہ طلایہ گردی سے نمٹا جاسکے ۔ اُمید ہے کہ اس بات چیت سے چینی دراندازیوں کے بارے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ وزیراعظم چین لی کے قیانگ 2013ء میں اور صدر چین ژی جن پنگ ایک سال بعد ہندوستان کا دورہ کرچکے ہیں ۔ دونوں ممالک نے اپنے کئی سرحدی مقامات فوجیوں اور عہدیداروں کیلئے کھول دیئے ہیں اور اس کی وجہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے قیام کیلئے بات چیت قرار دی جاتی ہے ۔ حالیہ اطلاعات کے بموجب ہندوستان نے چینی فوجیوں کی پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی ہراول چوکیوں پی ایل کے فوجیوں کی طلایہ گردی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT