Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / درج فہرست قبائل و اقلیتی طبقات کیساتھ ناانصافی کیخلاف بس یاترا

درج فہرست قبائل و اقلیتی طبقات کیساتھ ناانصافی کیخلاف بس یاترا

اچھاپورم تا ہندپور سی پی آئی اے پی کی یاترا، کے ر اما کرشنا کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔ 16 جنوری (سیاست نیوز) ریاست آندھراپردیش میں درج فہرست اقوام و قبائل پسماندہ و اقلیتی طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف حصول سماجی انصاف، حصول سماجی حقوق اور آندھراپردیش کی ترقی کے موضوع پر ریاستی سی پی آئی آندھراپردیش کمیٹی کے زیراہتمام 26 جنوری تا 6 مارچ (چالیس یوم) تک اچھاپورم تا ہندو پور تک ’’بس یاترا‘‘ منظم کی جائے گی۔ آج یہاں ایڈیٹرس سینئر صحیفہ نگاروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں دوران گفتگو مسٹر کے راما کرشنا سکریٹری ریاستی سی پی آئی آندھراپردیش کمیٹی نے اس بات کا انکشاف کیا اور بتایا کہ آندھراپردیش میں جہاں قومی سیاسی جماعتوں کا کوئی طاقتور موقف نہیں ہے، وہیں دو علاقائی جماعتیں تلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی ریاستی عوام میں اپنا اپنا علحدہ طاقتور موقف رکھتی ہیں لیکن تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹیاں ریاست کے اعلیٰ ذات طبقات کی فلاح و بہبود پر ہی توجہ دے رہے ہیں اور درج فہرست اقوام و قبائل پسماندہ و اقلیتی طبقات کو مکمل طور پر نہ صرف نظرانداز کررہے ہیں بلکہ ان طبقات کی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے، جس کے پیش نظر ان طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف ایک نئے سماجی متبادل کیلئے ہی بس یاترا کے دوران ایس سی ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طبقات سے خصوصی طور پر تبادلہ خیال کے ذریعہ سماجی متبادل کیلئے بیداری پیدا کی جائے گی۔ مسٹر راما کرشنا نے تلگودیشم حکومت کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور بتایا کہ ریاست میں اقلیتی فلاح و بہبود کو بالکلیہ طور پر نظرانداز کردیا گیا اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختص بجٹ میں ایک چوتھائی حصہ بھی خرچ نہیں کیا جاسکا۔ ریاست آندھراپردیش کا تذکرہ کرتے ہوئے سکریٹری سی پی آئی نے کہا کہ آندھراپردیش ملک کی ایک واحد ریاست ہے، جہاں ریاستی کابینہ میں کوئی مسلم وزیر نہیں ہے جبکہ آندھراپردیش میں برسراقتدار تلگودیشم پارٹی میں مسلم ارکان اسمبلی و کونسل موجود ہیں۔ اس کے باوجود تلگودیشم پارٹی نے کسی ایک مسلم رکن اسمبلی یا رکن قانون ساز کونسل کو کابینہ میں وزارتی عہدے پر فائز نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ریاست گجرات ملک کی وہ واحد ریاست ہے جہاں کی اسمبلی میں کوئی ایک مسلم رکن اسمبلی نہیں ہے۔ اس طرح گجرات اور آندھراپردیش کا تقابل کیا جائے تو دونوں ریاستوں کے مابین کوئی فرق ہی نہیں دکھائی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کے ہر شعبہ جات محکمہ میں ایس سی ایس ٹی بی سی اور اقلیتی طبقات کو بالکلیہ طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے اور صرف کما اور ریڈی طبقات کو ہی ترجیح دی جارہی ہے۔ مرکزی حکومت کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت میں دلتوں اور اقلیتوں پر مظالم میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ رکن سکریٹریٹ آندھراپردیش سی پی آئی کمیٹی و رکن قانون ساز کونسل آندھراپردیش مسٹر پی جے چندرشیکھر نے کہا کہ ریاستی ترقی برائے نام ہے صرف تشہیر کی جارہی ہے۔ گذشتہ ڈھائی سال میں امراوتی کی بھی ترقی نہیں ہوسکی۔ حکومت صرف کارپوریٹ شعبہ کی ترقی پر ترجیح دے رہی ہے یہاں تک کہ گورنمنٹ ہاسپٹلس کو خانگی ہاسپٹلس کے حوالہ کررہی ہے۔ یونیورسٹیوں کو بھی خانگی شعبہ کے حوالہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے دو کابینی رفقاء جی سرینواس اور نارائنا (سمدھیوں) کو تعلیمی شعبہ حوالہ کردیا ہے۔ ریاست میں ہزاروں سرکاری اسکولس کو بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اب تک ہی ریاست میں 435 ویلفیر ہاسٹلس بند کردیئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی ان تمام کوششوں و حقائق سے عوام کو واقف کروانے کیلئے ہی 40 روزہ ریاست اڑیسہ کی سرحد تا ریاست کرناٹک سرحد ’’اچھا پورم تائیدو پورم‘‘ تک بس یاترا کا نکالی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 21 جنوری کو اس بس یاترا پروگرام کے سلسلہ میں عوام کو واقف کروانے کیلئے وجئے واڑہ میں بڑے جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT