Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ بڑا پہاڑ میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں کا انکشاف

درگاہ بڑا پہاڑ میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں کا انکشاف

حیدرآباد۔/10جون، ( سیاست نیوز) درگاہ حضرت سعد اللہ حسینی ؒبڑا پہاڑ نظام آبادمیں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور زائرین سے من مانی رقومات کی وصولی کی شکایات پر وقف بورڈ نے کارروائی کرتے ہوئے کنٹراکٹ کو منسوخ کردیا ہے۔ مقامی ریاستی وزیر پوچارم سرینواس ریڈی اور عوامی نمائندوں نے اس سلسلہ میں وقف بورڈ سے شکایت کی تھی کہ کنٹراکٹر کی جانب سے ہر سطح پر زائرین سے من مانی رقومات حاصل کی جارہی ہیں اور زائرین کو مالی بوجھ میں مبتلاء کیا جارہا ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے اس سلسلہ میں ابتدائی جانچ کی گئی جس میں پتہ چلا کہ کنٹراکٹر کی جانب سے وقف بورڈ کو سالانہ 2کروڑ 40لاکھ روپئے ادا کئے جارہے ہیں جبکہ وہ زائرین سے تقریباً  5کروڑ روپئے تک وصول کررہا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے بڑا پہاڑ کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا اور زائرین سے بات چیت کی۔ فاتحہ خوانی، ذبیحہ کے علاوہ رہائش کیلئے زائرین سے من مانی رقومات کی شکایات ملیں۔ اس کے علاوہ وہاں موجود ہوٹلوں اور دیگر اسٹالس سے من مانی کرایہ لیا جارہا ہے جس کے سبب ہوٹل مالکین پانی اور غذائی اشیاء کو بھاری قیمت پر فروخت کررہے ہیں۔ منرل واٹر کی ایک بوتل 40تا50 روپئے میں فروخت کی جارہی تھی۔ اس کے علاوہ زائرین کیلئے موجود پانی فی بکیٹ 15روپئے کے حساب سے فروخت کیا جارہا تھا۔ ان تمام شکایات کا جائزہ لینے کے بعد وقف بورڈ نے کنٹراکٹ کو منسوخ کردیا اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو مذکورہ تمام اُمور کی نگرانی کرے گی۔ یہ کمیٹی زائد رقومات کے حصول کو روکنے کے علاوہ دیگر بے قاعدگیوں کی جانچ کرے گی۔ اس کمیٹی میں ریونیو، پولیس اور دیگر محکمہ جات کے عہدیدار شامل کئے گئے ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے بتایا کہ وقف بورڈ کے اس فیصلہ سے زائرین نے راحت کی سانس لی ہے کیونکہ غذائی اشیاء اور پانی کی قیمتوں میں کافی کمی آچکی ہے۔ اس کے علاوہ غلے میں رقم جمع کرنے کیلئے کوئی اصرار نہیں کیا جارہا ہے اور فاتحہ خوانی بھی مفت کی جائے گی۔ ذبیحہ کی صورت میں سرے پائے اور دیگر اشیاء حاصل کرنے کے طریقہ کار کو بھی ختم کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ اس بات کی کوشش کرے گا کہ سالانہ آمدنی میں کوئی کمی نہ ہو اور ساتھ ہی زائرین کو کوئی دشواری نہ ہو۔ تین ماہ کیلئے نگرانکار کمیٹی تشکیل دی گئی اور اس کے تجربات کی بنیاد پر آئندہ کنٹراکٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس درگاہ کو مختلف ریاستوں سے ہزاروں زائرین پہنچتے ہیں اور طویل فاصلے پر ہونے کے سبب وہاں کوئی نگرانی نہیں تھی۔

TOPPOPULARRECENT