Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی پر حکومت کی دعویداری برقرار

درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی پر حکومت کی دعویداری برقرار

سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت سے عین قبل محکمہ اقلیتی بہبود کو مایوسی ، وقف بورڈ کو نقصان کا اندیشہ
حیدرآباد۔/18فبروری، ( سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی 1654 ایکر اراضی پر حکومت نے اپنی دعویداری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح محکمہ اقلیتی بہبود کو سپریم کورٹ میں مقدمہ کی قطعی سماعت سے عین قبل اسوقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب حکومت کے نمائندہ نے اقلیتی بہبود کے مشیر اور عہدیداروں کو اس بات کا اشارہ دیا کہ مقدمہ میں حکومت اپنا دعویٰ پیش کرے گی اور وقف بورڈ کے حق میں دعویٰ سے دستبرداری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی اُمور کے مشیر نے اس مسئلہ پر حکومت سے موقف جاننے کی کوشش کی جس پر چیف منسٹر کے مشیراعلیٰ نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ میں حکومت کا سابقہ موقف برقرار رہے گا اور وقف بورڈ کے حق میں دستبرداری کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ مختلف گوشوں سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں وقف اراضی کو سرکاری قرار دینے کی کوششوں کو ترک کرتے ہوئے وقف بورڈ کے حق میں حلف نامہ داخل کردیں۔ اس طرح 1654 ایکر اراضی وقف بورڈ کی تحویل میں آجائے گی۔ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے بھی چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اراضی پر موقف سے دستبرداری کی مانگ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر سے ابھی تک اس مکتوب کا جواب روانہ نہیں کیا گیا۔ منی کنڈہ جاگیر میں موجود اس اراضی کے مقدمہ کی قطعی سماعت21 فبروری کو مقرر ہے اور اقلیتی بہبود کے قائدین نے سماعت سے عین قبل وکلاء کے تقرر کے سلسلہ میں حکومت کے موقف کو جاننے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کے حق میں مثبت ردعمل نہ ملنے پر اقلیتی بہبود نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کی  پیروی کیلئے 4 نامور وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اگر حکومت وقف بورڈ کے حق میں دستبرداری کا اشارہ دیتی تو محکمہ اقلیتی بہبود وکلاء پر بھاری خرچ سے بچ سکتا تھا۔ حکومت بمقابلہ وقف بورڈ کے اس دلچسپ کیس میں وقف بورڈ کو اب مسلم اداروں کی آمدنی سے بھاری رقومات وکلاء پر خرچ کرنی پڑ رہی ہے۔ اسی دوران محکمہ اقلیتی بہبود نے نامور قانون داں فالی ایس نریمن کی خدمات حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی مقررہ فیس کو 15 لاکھ سے بڑھا کر 35 لاکھ کردیا تھا اور تین دن کیلئے ایک کروڑ 5 لاکھ روپئے ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب جبکہ حکومت خود بھی وقف بورڈ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی، محکمہ اقلیتی بہبود نے سپریم کورٹ کے 5 وکلاء کے ناموں کو قطعیت دی ہے جن میں حذیفہ احمدی، نکل دیوان، کے وی وشواناتھن، گرو کرشنا اور گورو اگروال شامل ہیں۔ ان وکلاء کی اعانت کیلئے اعجاز احمد مقبول ایڈوکیٹ کو مقرر کیا گیا ہے جو وقف بورڈ کے دیگر مقدمات میں بھی پیروی کررہے ہیں۔ وقف بورڈ کے ریکارڈ اور مقدمہ کی تفصیلات پیش کرنے کے لئے حیدرآباد کے ایک ایڈوکیٹ کو روانہ کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وکلاء کی فیس اور دیگر اخراجات پر وقف بورڈ کو لاکھوں روپئے خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔ یوں تو ریکارڈ کے اعتبار سے وقف بورڈ کا موقف مستحکم ہے تاہم حکومت اور خانگی اداروں کی جانب سے سرکاری اراضی کے حق میں کی جانے والی پیروی سے وقف بورڈ کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ برقرار ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT