Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی کا معاملہ ، حکومت اور وقف بورڈ صف آراء

درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی کا معاملہ ، حکومت اور وقف بورڈ صف آراء

’’ جو رہزن ہیں وفا کی بات کرتے ہیں‘‘
درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی کا معاملہ ، حکومت اور وقف بورڈ صف آراء
سپریم کورٹ میں 21 فروری کو قطعی سماعت مقرر ، مسلم اداروں کی آمدنی مقدمہ بازی پر خرچ ، وقف بورڈ کے وکیل کی ایک دن کی فیس 15 لاکھ روپئے
حیدرآباد ۔ 10فبروری ( سیاست نیوز) حکومت ایک طرف اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کو برخواست کرتے ہوئے وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا بارہا اعلان کرچکی ہے لیکن منی کونڈہ میں واقع درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اوقافی اراضی کے معاملہ میں خود حکومت وقف بورڈ کے خلاف مقدمہ لڑرہی ہے ۔ وقف بورڈ کو اس اراضی کے تحفظ کیلئے نہ صرف حکومت کے خلاف رجوع ہونا ہے بلکہ اُسے وکلاء پر لاکھوں روپئے خرچ کرنے پڑرہے ہیں جو اوقافی اداروں کی آمدنی کا حصہ ہے ۔ اس طرح وقف بورڈ کو مسلم اداروں کی آمدنی مسلمانوں کی بھلائی کے بجائے مقدمہ بازی میں خرچ کرنا پڑرہا ہے ۔ منی کونڈہ وقف اراضی کا معاملہ ایک منفرد مثال ہے جس میں حکومت اور وقف بورڈ ایک دوسرے کے خلاف عدالت میں صف آراء ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں منی کونڈہ کی 800ایکر کھلی اراضی کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اس سلسلہ میں کوئی کاغذی کارروائی نہیں کی گئی ۔ حکومت کو درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی جملہ 1654ایکر 32گنٹے اراضی وقف بورڈ کو حوالے کرنے صرف چند لمحے درکار ہیں اگر حکومت سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اراضی پر اپنی دعویداری سے دستبرداری اختیار کرلے تو پھر عدالت میں مقدمہ ہی باقی نہیں رہے گا اور ساری اراضی وقف بورڈ کے قبضہ میں آجائے گی ‘ لیکن حکومت اس طرح کا کوئی قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں ۔ 2006ء سے حکومت اس اراضی پر اپنی دعویداری پیش کررہی ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں آندھراپردیش انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے مقدمہ کی پیروی کی تھی اور اب تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کا سپریم کورٹ میں یہ دعویٰ ہے کہ اس نے مختلف اداروں کو 807 ایکر جو اراضی الاٹ کی ہے وہ سرکاری ہے ۔ گذشتہ 10برسوں سے جاری اس مقدمہ کا اہم موڑ 21 فبروری کو دیکھنے کو ملے گا جب سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی قطعی سماعت مقرر کی ہے ۔ وقف اراضی کے تحفظ کیلئے وقف بورڈ نے ملک کے نامور قانون داں فالی ایس نریمان کی خدمات حاصل کی ہیں جن کی ایک دن کی فیس 15لاکھ روپئے ہیں ۔ 2012ء میں وقف بورڈ نے انہیں اس مقدمہ کے سلسلہ میں یہ رقم ادا کردی تھی ۔ اب جب کہ 21فبروری کو مقدمہ کی سماعت مقرر ہے تو اس بات کا امکان ہے مذکورہ رقم دوبارہ ادا کرنی پڑے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے نامور وکلاء کی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ ہر پیشی کو معاہدہ کے مطابق رقم ادا کرنا پڑے گا ‘ بھلے ہی اُن کی بحث چند سیکنڈ کیلئے ہی کیوں نہ ہو۔ بعض معاملات میں تو منٹ اور سیکنڈ کے حساب سے چارج کیا جاتا ہے ۔ وقف بورڈ نے اس مقدمہ کے سلسلہ میں اب تک لاکھوں روپئے خرچ کئے ہیں اور یہ ساری رقم اوقافی اداروں کی آمدنی سے ادا کی گئی ۔ اگر حکومت اوقافی اراضیات کے تحفظ میں سنجیدہ ہو تو اسے 21فبروری کی سماعت میں درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی پر اپنی دعویداری کو ختم کرتے ہوئے حلفنامہ داخل کرنا چاہیئے ۔ لینکو ہلز اور دیگر خانگی ادارے بھی اس مقدمہ میں اہم فریق ہیں ۔ حکومت اور وقف بورڈ کے درمیان قانونی لڑائی کا یہ منفرد معاملہ ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کے خلاف بھاری رقومات خرچ کررہے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT