Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی وقف اراضی کا مقدمہ

درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی وقف اراضی کا مقدمہ

عنقریب سماعت کا آغاز ، سی ای او بورڈ محمد اسد اللہ کا بیان
حیدرآباد۔/25مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی منی کونڈہ میں واقع اوقافی اراضی کے سلسلہ میں دائر کردہ مقدمہ کی سماعت جلد ممکن ہے۔ وقف بورڈ کے وکیل نے لینکو ہلز ٹکنالوجی پارک کی جانب سے فلیٹس کی فروخت سے متعلق اشتہارات کی اجرائی کے خلاف اپیل دائر کردی ہے تاہم سماعت کیلئے سپریم کورٹ نے ابھی تاریخ مقرر نہیں کی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں نامور وکلاء کے ذریعہ یہ مقدمہ درج کیا گیا اور امید ہے کہ فیصلہ وقف بورڈ کے حق میں آئے گا۔ اعجاز مقبول ایڈوکیٹ نے لینکو ہلز کے اشتہارات کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود لینکو ہلز نے فلیٹس کی فروخت کیلئے اخبارات میں اشتہارات جاری کئے جس میں اراضی کے وقف ہونے سے متعلق  تنازعہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ سے وقف بورڈ نے اپیل کی ہے کہ لینکو ہلز کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے اشتہارات میں وقف تنازعہ کا تذکرے کرے۔ لینکو ہلز نے حالیہ عرصہ میں کئی قومی اخبارات میں اشتہارات شائع کئے اور بتایا جاتا ہے کہ فلیٹس کی فروخت تیزی سے جاری ہے۔ اس سے قبل عدالت نے لینکو ہلز کو پابند کیا تھا کہ وہ فروخت سے متعلق دستاویزات میں وقف تنازعہ کا ذکر کریں اور سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ کے مطابق معاہدہ کی قطعیت کا تذکرہ کیا جائے لیکن لینکو ہلز اس ہدایت کی بھی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔ وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں ایک اور اپیل دائر کی ہے جس میں اصل مقدمہ کی عاجلانہ یکسوئی کی درخواست کی گئی۔ اراضی سے متعلق اصل مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے جس میں ریاستی حکومت اصل فریق ہے۔ حکومت منی کونڈہ کی اراضی کو سرکاری قرار دے رہی ہے جبکہ وقف بورڈ نے دستاویزات کے ساتھ اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ اگر تلنگانہ حکومت اپنی دعویداری سے دستبرداری اختیار کرلے تو یہ اراضی از خود وقف قرار پاجائے گی۔ اسی دوران وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز سید عمر جلیل نے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں مقدمہ کی پیشرفت کا جائز ہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT