Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی وقف اراضی کا مقدمہ،سپریم کورٹ میں 8 اگست کو مقدمہ کی سماعت

درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی وقف اراضی کا مقدمہ،سپریم کورٹ میں 8 اگست کو مقدمہ کی سماعت

حیدرآباد 5 اگسٹ (سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کی وقف اراضی سے متعلق سپریم کورٹ میں مقدمہ کی آئندہ سماعت 8 اگسٹ کو مقرر ہے۔ جبکہ گٹلہ بیگم پیٹ وقف اراضی کا مقدمہ 29 اگسٹ تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ سپریم کورٹ میں آج وقف بورڈ کی جانب سے گٹلہ بیگم پیٹ کی 90 ایکر اراضی سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی اپیل کی سماعت مقرر تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد آئندہ تاریخ 29 اگسٹ مقرر کی ہے۔ اِس مقدمہ کے سلسلہ میں وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی ہیں۔ واضح رہے کہ ہائیکورٹ نے گٹلہ بیگم پیٹ وقف اراضی کے مقدمہ میں فریق ثانی کے حق میں فیصلہ سنایا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ اس اراضی سے متعلق دو علیحدہ مقدمات زیردوران ہیں۔ وقف بورڈ اِس بات کی کوشش کررہا ہے کہ دونوں مقدمات کی بیک وقت سماعت ہو۔ اِسی دوران لینکو ہلز کے معاملہ میں وقف بورڈ کی اپیل پر سپریم کورٹ میں 8 اگسٹ کو سماعت ہوگی۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسداللہ نے بتایا کہ لینکو ہلز کی جانب سے فلیٹس کی فروخت کے سلسلہ میں اخبارات میں اشتہارات ہائیکورٹ کے احکامات کے مغائر ہیں۔ ہائیکورٹ نے لینکو ہلز کو ہدایت دی تھی کہ وہ اشتہارات اور رجسٹری میں اِس بات کی صراحت کرے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیردوران ہے اور قطعی فیصلہ کا تابع ہوگا۔ اُنھوں نے بتایا کہ لینکو ہلز ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اشتہارات جاری کررہا ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جہاں پہلے ہی ایک مقدمہ زیردوران ہے۔ واضح رہے کہ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کی 1654 ایکر اراضی میں 854 ایکر اراضی آندھراپردیش انڈسٹریل انفراسرکچر کارپوریشن نے 10 سے زائد کمپنیوں کو الاٹ کردی ہے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اسمبلی میں تیقن دیا تھا کہ 800 ایکر کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کردی جائے گی لیکن آج تک اِس وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ دوسری طرف تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے الاٹ کردہ اراضی پر اپنا دعویٰ برقرار رکھا ہے۔ اگر حکومت اِس دعوے سے دستبرداری اختیار کرلے تو یہ اراضی بھی وقف بورڈ کے تحت آجائے گی اور اُس پر قائم اداروں کو وقف بورڈ سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT