Sunday , March 26 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی اوقافی اراضی کا مقدمہ

درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی اوقافی اراضی کا مقدمہ

سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت مقرر‘ وقف بورڈ کی جانب سے 5ناموروکلاء کی خدمات
حیدرآباد۔20 فبروری (سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی 1654 ایکڑ اوقافی اراضی کے سلسلہ میں کل 21 فبروری کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت مقرر ہے۔ وقف بورڈ نے مقدمہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے 5 نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی ہیں اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نئی دہلی پہنچ گئے تاکہ وکلاء سے مذاکرات کریں۔ وقف بورڈ کی جانب سے وکلاء کی ابتدائی فیس کے طور پر 12 لاکھ روپئے جاری کئے گئے ہیں اور مقدمہ کی سماعت کے بعد مزید 10 تا 15 لاکھ روپئے جاری کرنے پڑسکتے ہیں۔ وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کے لیے وقف بورڈ نمائندے کی حیثیت سے جس وکیل نے فرائض انجام دیئے ان کے اکائونٹ میں 12 لاکھ روپئے منتقل کئے گئے جو حج ہائوز مینٹننس فنڈ میں موجود رقم سے جاری کئے گئے ہیں۔ پیشگی کے طور پر یہ رقم جاری کی گئی بعد میں فیس مقرر ہوگی اور اس اعتبار سے باقی رقم جاری کرنا پڑے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جن 5 وکلاء کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں ان میں نکل دیوان، کے وی وشواناتھن، گرو کرشنا، گورو اگروال اور حذیفہ احمدی شامل ہیں۔ مقدمہ کی سماعت کے سلسلہ میں اعجاز احمد مقبول کو وقف بورڈ کی جانب سے 65 ہزار ادا کئے جاتے ہیں اس کے علاوہ حیدرآبادسے تعلق رکھنے والے ایک سینئر وکیل کو فضائی کرایہ کے علاوہ 35 ہزار روپئے ادا کئے جاتے ہیں۔ حیدرآباد سے روانہ ہونے والے وکیل تمام متعلقہ دستاویزات سپریم کورٹ کے وکلاء کے حوالے کریں گے اور انہیں مقدمہ کی تفصیلات اور وقف بورڈ کے موقف سے آگاہ کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی جس کورٹ میں مقدمہ کی سماعت ہوگی وہاں لینکو ہلز کا مقدمہ 110 ویں نمبر پر ہے۔ اگر کل مقدمہ کی سماعت ممکن نہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ چہارشنبہ کے دن یہ دوبارہ لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ اسی دوران حکومت نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو مقدمہ کے بارے میں اپنا موقف واضح کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اس بات کی کوشش کی کہ یہ معاملہ چیف منسٹر کے علم میں لایا جائے تاکہ وہ اسمبلی میں دیئے گئے تیقن کے مطابق اراضی پر حکومت کی دعویداری کے سلسلہ میں ازسر نو غور کریں۔ اگر حکومت سپریم کورٹ میں اراضی پر اپنی دعویداری ختم کرتی ہے تو ساری زمین وقف بورڈ کے حصہ میں آجائے گی اور تمام خانگی کمپنیوں کو وقف بورڈ سے رجوع ہوکر کرایہ دار بننا پڑے گا ۔بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے ملاقات کی کوشش کی لیکن ان کے مشیر اعلی نے کہا کہ 21 فبروری کی سماعت کے بعد ہی آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اس طرح سپریم کورٹ میں سماعت سے عین قبل وقف بورڈ کے عہدیداروں میں حکومت کے موقف کو لے کر تجسس پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ تلگودیشم اور کانگریس دور حکومت میں درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی مختلف اداروں کو الاٹ کی تھی۔ تلگودیشم حکومت نے سافٹ ویر کمپنی وِپرو کو 30 ایکڑ، وی جے آئی ایل کنسلٹنٹ (5 ایکڑ)، پولاریس سافٹ ویر لمیٹیڈ (7 ایکڑ)، انفوسس (50 ایکڑ)، مائیکرو سافٹ (54 ایکڑ)، بولڈر ہلز (17 ایکڑ)، ایم آر (110 ایکڑ)، اردو یونیورسٹی (200 ایکڑ) اور انڈین اسکول آف بزنس کو (250 ایکڑ) اراضی الاٹ کی گئی تھی۔ وائی ایس آر حکومت نے لینکو ہلز ٹکنالوجی پارک کو (108 ایکڑ) اراضی الاٹ کی تھی۔ چیف منسٹر نے 800 ایکڑ کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا اسمبلی میں تیقن دیا تھا لیکن آج تک اس سلسلہ میں کاغذی کارروائی نہیں کی گئی۔ موجودہ حالات میں سپریم کورٹ میں منی کونڈا اراضی کی سماعت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT