Wednesday , March 29 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت حسین شاہ ولی کی اراضی کے مقدمہ کی سماعت نہیں ہوسکی

درگاہ حضرت حسین شاہ ولی کی اراضی کے مقدمہ کی سماعت نہیں ہوسکی

سپریم کورٹ میں مقدمات کی طویل فہرست ۔ آج بھی سماعت کے تعلق سے قطعی امید نہیں

حیدرآباد۔ 21 فروری (سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی 1654 ایکر اوقافی اراضی کے مقدمہ کی سماعت آج سپریم کورٹ میں مقرر تھی، تاہم مقدمات کی طویل فہرست کے باعث یہ معاملہ آج سماعت کیلئے نہیں آسکا۔ توقع کی جارہی ہے کہ چہارشنبہ یا پھر آئندہ ہفتہ مقدمہ کی سماعت ہوگی۔ سپریم کورٹ میں منی کونڈہ جاگیر کے تحت موجود اس اراضی کے معاملہ میں فیصلہ کن سماعت مقرر کی گئی تھی اور مقدمہ کے تمام فریقوں کو اپنے موقف کی وضاحت کرنی تھی۔ تلنگانہ حکومت اور وقف بورڈ اس مقدمہ میں ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور تلنگانہ حکومت کی تائید میں لینکو ہلز نے اپنے وکیل کھڑا کئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور وقف بورڈ کی نمائندگی کرنے والے اعجاز احمد مقبول نے سیاست کو بتایا کہ سیرئیل میں یہ مقدمہ 110 ویں نمبر پر تھا لہذا آج یہ سماعت کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔ قطعی طور پر کہا نہیں جاسکتا کہ چہارشنبہ کو بھی سماعت ہوگی یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو سپریم کورٹ کو تعطیل ہے، لہذا امکان ہے کہ آئندہ ہفتہ منگل کو یہ مقدمہ سماعت کے مرحلے میں آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ نے نامور قانون داں راجیو دھون کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح مقدمہ میں وقف بورڈ کے وکلاء کی تعداد بڑھ کر 6 ہوچکی ہے۔ راجیو دھون مقدمہ میں وقف بورڈ کی جانب سے بحث میں حصہ لیں گے اور ان کے دیرینہ تجربہ اور سینیارٹی کو دیکھتے ہوئے خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راجیو دھون کے علاوہ جو وکلاء سپریم کورٹ میں وقف بورڈ کی نمائندگی کریں گے، ان میں کے وی وشواناتھن، حذیفہ احمدی، گرو کرشنا، گورو اگروال اور نکل دیوان شامل ہیں۔ مقدمہ کی سماعت کے سلسلے میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسداللہ نئی دہلی میں ہیں اور انہوں نے وکلاء کو منی کونڈہ وقف اراضی کے بارے میں درکار دستاویزات اور مواد حوالے کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مقدمہ میں حکومت نے اراضی پر اپنی دعویداری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے وقف اراضی کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن سپریم کورٹ میں اراضی کے حق میں دعویداری سے غیریقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ مقدمہ کے سلسلے میں وقف بورڈ کی جانب سے لاکھوں روپئے ادا کئے جارہے ہیں اور یہ ساری رقم مسلم اداروں کی آمدنی سے ادا کی جارہی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کے خاتمہ پر خرچ کی جانے والی رقم مقدمہ بازی میں خرچ ہورہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT