Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت درویش محی الدین قادریؒ کی وقف اراضی کا تحفظ وقف بورڈ کے لیے چیالنج

درگاہ حضرت درویش محی الدین قادریؒ کی وقف اراضی کا تحفظ وقف بورڈ کے لیے چیالنج

بورڈکے ہاں 29 ایکڑ اراضی کا ریکارڈ ، کھلی اراضی پر قابضین کی نظر ، دکن وقف پروٹیکشن کمیٹی کی وقف بورڈ سے نمائندگی
حیدرآباد۔/8 جنوری، ( سیاست نیوز) درگاہ حضرت درویش محی الدین قادری ؒ کے تحت واقع 29ایکر اوقافی اراضی کا تحفظ وقف بورڈ کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ 29ایکر اوقافی اراضی جس کا ریکارڈ وقف بورڈ کے پاس موجود ہے اس میں 20ایکر پر ناجائز قبضے ہیں اور 9ایکر کھلی اراضی پر قابضین کی بری نظریں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 4ایکر پر بعض قابضین نے قبضہ کرتے ہوئے دن رات تعمیری کاموں کا آغاز کردیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے 2012 میں غیر مجاز قبضوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن ماتحت عملے نے آج تک کوئی پیشرفت نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض سیاسی قائدین کی سرپرستی میں ناجائز قبضے جاری ہیں اور ان کے دباؤ کے تحت وقف بورڈ کا ماتحت عملہ کسی بھی کارروائی سے خوفزدہ ہے۔ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں کی ہدایت پر دکن وقف پروٹیکشن کمیٹی نے اس سلسلہ میں وقف بورڈ سے نمائندگی کی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے متعلقہ انسپکٹر آڈیٹر کو اراضی کے سروے کی ہدایت دی لیکن ان احکامات پر عمل آوری کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وقف بورڈ پر مقامی سیاسی جماعت کے قائدین کے کنٹرول کا نتیجہ ہے کہ وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار کسی بھی کارروائی سے قاصر ہیں۔ 200کروڑ روپئے مالیتی اس قیمتی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں گزشتہ چند برسوں سے کی جارہی کاوشوں کو بلدی انتخابات کی آڑ میں ٹالنے کی سازش کی جارہی ہے۔ حالانکہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کی کارروائی انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت نہیں آتی۔ دلچسپ اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ 4ایکر اراضی حوالے کرنے کیلئے متعلقہ تحصیلدار نے 2012ء میں اسوقت کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو مکتوب روانہ کیا تھا اور ڈپٹی انسپکٹر اور سرویئر کو روانہ کرنے کی خواہش کی تھی لیکن آج تک انسپکٹر اور سرویئر کو روانہ نہیں کیا گیا جس کے باعث یہ اراضی غیر مجاز قابضین کی نظروں میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق اراضی پر قبضوں کو بچانے کیلئے عارضی شیڈ کی تعمیر کا کام دن رات کیا جارہا ہے۔ مقامی افراد نے شکایت کی کہ بعض سیاسی قائدین کی سرپرستی کے نتیجہ میں قابضین کو اوقافی اراضی پر بری نظر ڈالنے کا موقع ملا ہے۔ بظاہر دو عوامی نمائندوں نے اس اراضی کے بارے میں وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کیا لیکن عہدیداروں کو کارروائی سے روکنے کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ ان حالات میں حکومت اور بالخصوص ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو فوری مداخلت کرنی چاہیئے۔ اگر اس اراضی کو فوری تحویل میں نہیں لیا گیا تو امکان ہے کہ غریبوں میں پٹہ جات جاری کردیئے جائیں گے۔ دکن وقف پروٹیکشن کمیٹی کے صدر عثمان الہاجری نے وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر سے نمائندگی کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT