Sunday , March 26 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت مدار شاہ ؒ اور تکیہ یٰسین بیگم کی اراضیات تحفظ کے اقدامات

درگاہ حضرت مدار شاہ ؒ اور تکیہ یٰسین بیگم کی اراضیات تحفظ کے اقدامات

ناجائز قبضوں کی برخاستگی کا آغاز، محکمہ ریونیو سے ریکارڈ کے حصول کی مساعی

حیدرآباد۔/19نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے حیات نگر منڈل ضلع رنگاریڈی میں درگاہ حضرت مدار شاہ ؒ اور تکیہ یسین بیگم قبرستان کے تحفظ اور اس کے تحت اوقافی اراضی پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کا کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے اس سلسلہ میں متعلقہ اراضی کے ریکارڈ کو ریونیو ڈپارٹمنٹ سے حاصل کرنے کی مساعی کی ہے تاکہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق اس درگاہ اور قبرستان کے تحت 27 ایکر اراضی کے موقف کا جائزہ لیا جاسکے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس قدیم قبرستان اور درگاہ کے بارے میں وقف بورڈ میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور شبہ کیا جارہا ہے کہ ناجائز قابضین نے اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے وقف بورڈ سے ریکارڈ کو غائب کردیا۔ اس اراضی کے سلسلہ میں جس شخص نے اپنی ذاتی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے اسی شخص نے 2001 میں وقف بورڈ میں درخواست داخل کی تھی کہ اسے درگاہ اور قبرستان کا متولی مقرر کیا جائے۔ یہ درخواست بھی وقف بورڈ کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خاں خالد کی شکایت پر تحقیقاتی افسر کو حیات نگر منڈل روانہ کیا تھا اور تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ سروے نمبر 121 کے تحت 10 ایکر 13 گنٹے اراضی پر نرسمہا ریڈی نامی شخص کا قبضہ ہے۔ اس اراضی کو مکمل طور پر کمپاونڈ وال سے گھیر لیا گیا ہے۔ سروے نمبر 121 اور 122 کے بارے میں ریونیو ریکارڈ سے تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ بھلے ہی وقف بورڈ کے پاس ریکارڈ موجود نہ ہو لیکن بورڈ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی ادارہ کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔ اس اراضی پر بعض غیر مجاز افراد نے اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے فروخت کردیا اور اراضی خریدنے والوں نے قبرستان کو مسمار کرتے ہوئے جے سی بی کے ذریعہ مضبوط قبروں کے نشان کو بھی مٹادیا۔ اس سلسلہ میں جب پولیس میں شکایت درج کی گئی تو ڈپٹی کمشنر پولیس تفسیر اقبال کی خصوصی دلچسپی سے حیات نگر پولیس نے فوری کارروائی کی اور نرسمہا ریڈی اور دیگر 32 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا اور انہیں گرفتار کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں دیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ ناجائز قابضین نے قبروں کی دوبارہ تعمیر کا تیقن دیا اور مقامی افراد کی نشاندہی پر قبروں کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا ہے۔ اس اراضی پر اوقافی عہدیداروں کی آمد کو روکنے کیلئے سیکورٹی گارڈز متعین کردیئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ اراضی پر تعمیرات کا آغاز ہوچکا ہے اور اس اراضی کی مالیت تقریباً 200 کروڑ سے زائد ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ محکمہ مال سے دستاویزات حاصل کرنے کے بعد اراضی کے حصول کی کارروائی کی جائے گی اور قبرستان کا تحفظ اور درگاہ کے انتظامات وقف بورڈ اپنی تحویل میں لے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT