Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت میرمحمود صاحب ؒ کی اراضی پر قابضین کیخلاف فوجداری کارروائی

درگاہ حضرت میرمحمود صاحب ؒ کی اراضی پر قابضین کیخلاف فوجداری کارروائی

وقف بورڈ سے اراضی کا معائنہ، غیرمجاز فروخت کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کی خواہش
حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ نے درگاہ حضرت میر محمود صاحب ؒ کے تحت واقع اوقافی اراضی واقع عطاء پور ولیج راجندر نگر منڈل ضلع رنگاریڈی کے قابضین اور غیر مجاز فروخت کے خلاف فوجداری کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے اس سلسلہ میں وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اراضی کے معائنہ کیلئے روانہ کیا اور ان کی رپورٹ کی بنیاد پر غیر مجاز فروخت کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے انسپکٹر آڈیٹر وقف رنگاریڈی اور سرویئر وقف بورڈ کو اس معاملہ کی جانچ کی ہدایت دی تھی۔ مقامی افراد نے وقف بورڈ سے شکایت کی کہ غیر مجاز افراد اوقافی اراضی کو  کھلے عام فروخت کررہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کی ذاتی اراضی ہے۔ مقامی عوام نے اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بھی نمائندگی کی۔ غیر مجاز فروخت کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے تحصیلدار راجندر نگر منڈل کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سروے نمبر 335/1،335/2 اور 335/3 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے اراضی پر قبضے اور فروخت سے واقف کرایا۔ انہوں نے محکمہ مال کے سرویئر کے ذریعہ اوقافی اراضی کے حدود کا تعین کرنے کی خواہش کی۔ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ وقف بورڈ میں مکمل ریکارڈ موجود ہے اور کوئی بھی شخص اسے ذاتی اراضی قرار نہیں دے سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک وینچر کے تحت کمرشیل مقاصد کیلئے 25ہزار روپئے فی مربع گز کے حساب سے 7 ایکر اراضی کو فروخت کیا جارہا ہے۔ درگاہ حضرت میر محمود صاحب ؒ کے تحت جملہ 480ایکر اراضی موجود ہے اور وقف بورڈ نے سب رجسٹرار آفس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے غیر مجاز فروخت کے رجسٹریشن منسوخ کرنے کی خواہش کی ۔ اس کے علاوہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ تعمیرات کی اجازت نہ دے۔ اس سلسلہ میں ضلع کلکٹر حیدرآباد کو مکتوب روانہ کیا جارہا ہے تاکہ اس قیمتی اوقافی اراضی کا تحفظ کیا جاسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپٹمبر 2012میں اسوقت کے وقف بورڈ نے ایک شخص کو اس اوقافی اراضی میں سے 1432مربع گز اراضی تین سال کیلئے ماہانہ 7,160 روپئے سے لیز کو منظوری دی تھی۔4سپٹمبر 2012کو جاری کئے گئے احکامات کے مطابق بورڈ نے صدر نشین کو کرایہ مختص کرنے کا اختیار دیا تھا اور انہوں نے ماہانہ 7,160روپئے کرایہ اور 21,480 روپئے ناقابل واپسی ڈپازٹ طئے کیا۔

TOPPOPULARRECENT