Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت میر محمود ؒپہاڑی کی وقف اراضی کے تحفظ میں پولیس اور محکمہ مال کا عدم تعاون

درگاہ حضرت میر محمود ؒپہاڑی کی وقف اراضی کے تحفظ میں پولیس اور محکمہ مال کا عدم تعاون

ریوینو حکام کی ملی بھگت سے ریکارڈ میں تبدیلی ، وقف بورڈ فکر مند
حیدرآباد۔27 جولائی (سیاست نیوز) درگاہ حضرت میر محمودؒ پہاڑی عطا پور کی اوقافی اراضی پر ناجائز قبضوں کی برخاستگی میں وقف بورڈ کو پولیس اور محکمہ مال کے عدم تعاون کے نتیجہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ درگاہ حضرت میر محمودؒ کے تحت 600 ایکڑ اوقافی اراضی موجود ہے جس کا ریکارڈ اور تمام دستاویزات وقف بورڈ اور ریونیو میں درج ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2011ء میں لینڈ مافیا نے ریونیو ریکارڈ میں اس اراضی کو پٹہ اراضی کے طورپر درج کرالیا جبکہ ریونیو کے پہانی اور دیگر ریکارڈس میں پہلے سے وقف درج ہے۔ ریونیو حکام کی ملی بھگت کے ذریعہ ریکارڈ میں یہ تبدیلی کردی گئی جس سے وقف بورڈ کے حکام لاعلم رہے۔ گزشتہ ہفتے بونال کی تعطیل کا فائدہ اٹھاکر غیر مجاز قابضین نے اچانک 3 ایکڑ سے زائد اراضی کو اپنی تحویل میں لے لیا اور آہنی راڈ نصب کرتے ہوئے حدبندی کردی۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے فوری طور پر کمشنر سائبرآباد سندیپ شنڈلیا سے ربط قائم کرتے ہوئے تعمیری سرگرمیوں کو روک دیا تھا۔ وقف بورڈ کی جانب سے پولیس راجندر نگر میں شکایت کے بعد وقف مافیا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس اور ریونیو حکام کا رویہ وقف بورڈ کے ساتھ عدم تعاون کا ہے۔ پولیس ہائی کورٹ کے ایک حکمنامہ کا حوالہ دیتے ہوئے غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائی سے گریز کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قابضین نے عدالت سے احکامات حاصل کیئے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ دوسری طرف ریونیو حکام نے آج وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ سروے سے اتفاق کیا تھا لیکن لمحہ آخر میں ریونیو عہدیدار سروے کے بغیر ہی واپس ہوگئے۔ درگاہ کے راستے پر موجود اس قیمتی اراضی پر ناجائز قابضین کی طویل عرصہ سے نظریں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ قابضین کا تعلق مقامی سیاسی جماعت سے ہے اور وہ اکثریتی طبقہ کے بعض افراد کے ذریعہ یہ کام انجام دے رہے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کمشنر سائبرآباد اور دیگر عہدیداروں کو توجہ دلائی تاکہ وقف بورڈ کو غیر مجاز تعمیرات کے انہدام میں مدد دی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ سروے نمبر 329 اور 330 مکمل طور پر وقف اراضی ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ منظم انداز میں ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی کردی گئی۔ اس معاملہ کو ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر مال محمد محمود علی سے رجوع کیا جارہا ہے تاکہ محکمہ مال کے خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ناجائز قبضے کے لیے دو افراد پس پردہ سرگرم ہیں جن میں سے ایک متحدہ آندھراپردیش کے سابق ریاستی وزیر سے قربت رکھتے ہیں۔ وہ میرمحمودؒ پہاڑی کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ وقف بورڈ نے سابق ریاستی وزیر کے قریبی ساتھی اور دوسرے فرد کے نام کے ساتھ ایف آئی آر درج کرایا ہے۔ پولیس اور ریونیو حکام اگر تعاون کریں تو غیر مجاز قبضوں کو برخاست کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بتایا کہ میر محمود پہاڑی کی وقف اراضی کا ہر صورت میں تحفظ کیا جائے گا اور عدالت سے احکامات حاصل کرنے کے لیے سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قبضوں کے خلاف مسلمانوں کو چوکسی اختیار کرنی چاہئے کیوں کہ اوقافی جائیدادوں کے حقیقی مالک تو عام مسلمان ہیں جبکہ وقف بورڈ صرف ایک نگرانکار ہے۔

TOPPOPULARRECENT