Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / سہارنپور میں تازہ تشدد، ایک شخص ہلاک ، 4 زخمی

سہارنپور میں تازہ تشدد، ایک شخص ہلاک ، 4 زخمی

سہارنپور۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سہارنپور میں آج تازہ تشدد پھوٹ پڑنے سے ایک شخص ہلاک اور دیگر چار زخمی ہوگئے۔ اس شہر میں اپریل سے بین ذات پات جھڑپیں جاری ہیں۔ بعض نامعلوم افراد نے کم از کم 12 مکانوں کو جو ٹھاکروں کے تھے اور شبیر پور دیہات میں تھے، مایاوتی کی آمد سے پہلے نذرآتش کردیا۔ ایس پی (سٹی) پربل پرتاپ ، ضلع مجسٹریٹ ایم پی سنگھ اور ایس ایس پی سبھاش چندر دوبے فوری موقع واردات پر پہنچ گئے اور برہم ٹھاکر برادری کو تسلی دی۔ مایاوتی کے دورہ کے اختتام پر تلوار لہراتا ہوا ایک ہجوم بی ایس پی کے بعض حامیوں پر جو بی ایس پی کے جلسہ میں شرکت کیلئے سرساوا آئے ہوئے تھے، حملہ آور ہوا جس سے ایک شخص برسرموقع ہلاک اور دیگر 4 زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ کی خبر عام ہوتے ہوئے شہر کے دلتوں نے مبینہ طور پر فساد برپا کردیا اور بعض مقامات پر سنگباری کی جس کے نتیجہ میں بازار بند کردیئے گئے ۔ سہارنپور میں دلتوں کے 600 اور ٹھاکروں کے 900 سے زیادہ مکان ہیں۔

 

سہارنپور میں تشدد کی یوگی حکومت ذمہ دار : مایاوتی
سہارنپور؍مظفر نگر ۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بی ایس پی کی سربراہ نے آج کہا کہ ریاستی انتظامیہ ذات پات کی بنیاد پر جھڑپوں کا ذمہ دار ہے جو جاریہ ماہ ریاست کے ضلع سہارنپور میں پیش آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے امبیڈکر کے مجسمہ کی تنصیب اور مہارانا پرتاپ جینتی پر جلوس کی بیک وقت اجازت دی ہوتی تو تشدد کے واقعات پیش نہ آتے۔ مایاوتی نے مظفر نگر نے تشدد پر بھی یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں نے صرف اس لئے ردعمل ظاہر کیا تھا کیونکہ ان سے تعصب کا برتاؤ کیا جارہا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مختلف افراد کے خلاف دائر جھوٹے مقدموں سے دستبرداری اختیار کی جانی چاہئے اور تنازعات کی خوشگوار یکسوئی ہونی چاہئے۔ دلتوں اور راجپوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کرنا چاہئے۔ انہوں نے یوپی میں بی ایس پی کے دور اقتدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کی حکومت نے کبھی بھی بین ذات پات فسادات کی اجازت نہیں دی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT