Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / دریائے کرشنا کی تقسیم پر حکومت آندھرا پردیش کی ہٹ دھرمی

دریائے کرشنا کی تقسیم پر حکومت آندھرا پردیش کی ہٹ دھرمی

مرکزی سکریٹری آبی وسائل کی تلنگانہ و اے پی وزراء کے ساتھ بات چیت
حیدرآباد۔/23جون، ( سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کہا کہ دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم پر آندھرا پردیش کا ہٹ دھرمی کا رویہ برقرار ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ پانی کی تقسیم کے مسئلہ کی خوشگوار یکسوئی کیلئے تلنگانہ حکومت نے بارہا کوشش کی لیکن آندھرا پردیش حکومت نے تعاون کے بجائے یکطرفہ طور پر سخت گیر موقف اختیار کیا ہے۔ دریائے کرشنا کے پانی میں تلنگانہ کی حصہ داری کے مسئلہ پر مرکزی سکریٹری آبی وسائل کے ساتھ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے وزرائے آبپاشی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں دونوں ریاستوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا اور کسی نتیجہ کے بغیر ہی اجلاس ختم ہوگیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے آندھرا پردیش حکومت کے رویہ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی بات چیت میں دونوں ریاستوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا کیونکہ آندھرا پردیش کا رویہ ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو آندھرا پردیش کے حصہ سے ایک قطرہ بھی زائد پانی نہیں چاہیئے اور تلنگانہ ریاست صرف اپنے حق کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ تلنگانہ کو 90 ٹی ایم سی پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ برجیش کمار ٹریبونل کے قطعی فیصلہ تک مرکزی حکومت نے بھی مداخلت سے گریز کیا ہے۔ مہاراشٹرا اور کرناٹک کی حکومتوں کے ساتھ ملکر آبی تنازعہ کی یکسوئی کی کوشش کی گئی لیکن آندھرا پردیش حکومت تلنگانہ کے ساتھ ملکر کام کرنے تیار نہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دو تلگو ریاستیں باہم ملکر مسئلہ کی یکسوئی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ اپنے حقوق کیلئے تلنگانہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ واضح رہے کہ آبی تنازعہ کی یکسوئی کے سلسلہ میں ہریش راؤ نے ایک سے زائد مرتبہ آندھرا پردیش کے وزیر آبپاشی اوما مہیشورراؤ سے ملاقات کی لیکن مذاکرات ناکام رہے۔ ہریش راؤ اسی مسئلہ پر بات چیت کیلئے ممبئی روانہ ہوئے جہاں وہ مہاراشٹرا کے وزیر آبپاشی سے ملاقات کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT