Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / دستوری اختیارات کے حدود میں عدلیہ کی فعالیت

دستوری اختیارات کے حدود میں عدلیہ کی فعالیت

جمہوری اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت مناسب نہیں۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کا خطاب
بھوپال 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج حد سے زیادہ عدلیہ کی فعالیت پر ججوں کو خبردار کیا اور کہاکہ قانونی اختیارات کو بروکار لاتے وقت حدود سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ دستور ہی سب سے افضل اور برتر ہے۔ پرنب مکرجی نے کہاکہ جمہوریت کے ہر ایک ادارہ کو اپنے حدود میں کام کرنا ہوگا۔ دوسروں کی اندھا دھند تقلید نہیں کرنا چاہئے اور عدلیہ فعالیت کی وجہ سے ٹکراؤ کی صورتحال اور اختیارات کی تقسیم نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ دستور نے 3 اداروں میں مساویانہ طور پر اختیارات تقسیم کئے ہیں۔ نیشنل جوڈیشیل اکیڈیمی کے زیراہتمام سپریم کورٹ ججس کے لئے دستور اور قانونی اختیارات کی یاد دہانی تقریب (Retreat) کی افتتاحی تقریب سے مخاطب کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری بھی اہمیت رکھتی ہے تاکہ سرکاری انتظامیہ کی جانب سے ناانصافی کی صورت میں عدالت میں تصفیہ کیا جاسکے۔ انھوں نے کہاکہ عام آدمی تک انصاف رسانی کے لئے عدالتیں شہریوں کی جانب تحریر کردہ پوسٹ کارڈ اور اخبارات کی خبروں پر بھی کارروائی کرسکتی ہیں۔

مسٹر پرنب مکرجی نے کہاکہ جمہوریت کے 3 ستونوں میں عدلیہ بھی شامل ہے جوکہ دستور اور قانون کی قطعی تشریح و تاویل کا اختیار رکھتی ہے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ عدلیہ پر عوام کا جو اعتماد ہے اُسے ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہوگا اور انصاف کو سستا، آسان اور بلا تاخیر فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔دریں اثناء مرکزی وزیر قانون ڈی وی سدانندا گوڑا نے ملک بھر میں 3 کروڑ سے زائد معرض التواء مقدمات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہاکہ اس قدر مقدمات کی بھرمار حکومت کے لئے پریشانی کی بات ہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ ججس کے لئے ریٹریٹ سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ 3 سال کے دوران مقدمات کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود مزید 3 کروڑ مقدمات تصفیہ طلب ہیں اور حکومت ان مقدمات کی یکسوئی میں حائل رکاوٹ وں اور قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی کوشش میں ہے اور اس مقصد کیلئے حکومت نیشنل لٹیگیشن پالیسی پر نظرثانی کرے گی اور قانون ثالث و مصالحت میں ترمیم بھی کی جائے گی اور تجارتی تنازعات کی عاجلانہ یکسوئی کے لئے کمرشیل کورٹس بھی قائم کئے جارہے ہیں اور یہ تمام اقدامات بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ہندوستان کو ایک محفوظ مقام بنانے کیلئے کئے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سماج میں نظم و ضبط اور امن کی برقراری کے لئے عدل و انصاف کا بھی اہم رول ہوتا ہے کیوں کہ ایک مہذب معاشرہ انصاف کی بنیادوں پر ہی تعمیر کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT