Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / دستوری دفعہ 370 پر وزیراعظم کا 100 فیصد تیقن !

دستوری دفعہ 370 پر وزیراعظم کا 100 فیصد تیقن !

مودی سے ملاقات کے بعد محبوبہ مفتی کا بیان، پی ڈی پی۔ بی جے پی ایجنڈہ مفاہمت میں واضح ضمانت کا ادعا

نئی دہلی ۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کی چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت کے ایجنڈہ مفاہمت کا ’’100 فیصد‘‘ یقین دلایا ہے۔ اس ایجنڈہ مفاہمت میں کہا گیا ہیکہ اس ریاست کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی دستوری دفعہ 370 میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اس ریاست کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی دستوری دفعات میں ترمیم کی کوششوں کے خلاف مدد حاصل کرنے کی اطلاعات کے درمیان محبوبہ مفتی نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ انہوں نے 15 منٹ تک بات چیت کے بعد وزیراعظم کے دفتر سے باہر نکلتے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے مابین مفاہمت کے ایجنڈہ کی بنیاد یہی ہے کہ دفعہ 370 کے جوں کے توں موقف میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہ کی جائے۔ محبوبہ مفتی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایجنڈہ کی بنیاد ہے اور کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ وزیراعظم کا جواب مثبت رہا۔ مفاہمت کے ایجنڈہ پر وزیراعظم نے 100 فیصد یقین دہانی کی ہے‘‘۔ اس ریاست کو خصوصی موقف دینے والی دستوری دفعہ 35 (ایف) پر جاری بحث کے درمیان محبوبہ مفتی نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کی۔ اس دفعہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی مشکل صورتحال سے وزیراعظم کو باخبر کی ہیں اور بتایا کہ صورتحال میں بتدریج بہتری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے عوام یہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کی شناخت کو خطرہ لاحق ہگیا ہے اور یہ پیغام جانا چاہئے کہ ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر دشوار گذار حالات کا سامنا کررہا ہے۔ استعمال کے وقت ایک مسلم اکثریتی بات کی حیثیت سے ہمارے ملک ہندوستان میں شامل ہونے کا ایک مختلف و جداگانہ فیصلہ کیا تھا‘‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کی دوسروں سے یکسر مختلف و جداگانہ تکثیریت ہے جس میں سب کچھ مختلف ہے۔ یہ ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے جہاں ہندو رہتے ہیں۔ سکھ اور بدھ دھرم کے ماننے والے بھی رہتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے جموں و کشمیر کا ایک خصوصی موقف بھی ہے۔ یہ سوال ہے کہ آیا ہندوستان کے نظریہ کو جموں و کشمیر کے نظریہ سے ہم آہنگ ہونا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال حالات کافی بگڑ گئے تھے لیکن اب زخم مندمل ہونے لگے ہیں۔ ’’ان حالات میں دفعہ 35 (ایف) پر بحث مباحثے اس عمل پر بری طرح اثرانداز ہوسکتے ہیں‘‘۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایسے (35 (ایف) مباحثے نہیں ہونا چاہئے اور تو اور جموں و کشمیر بھی آخر ہمارے ملک کا ایک اہم حصہ ہی ہے۔ محبوبہ مفتی کے بموجب جموں و کشمیر ہندوستان کا تاج ہے۔ یہ ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے جو دو قومی نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے اس نظریہ کے ساتھ اس ملک میں شامل ہوئی ہے کہ ان کی امنگیں اور شناخت ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’شناخت کو ہمیشہ زندہ رکھا جانا چاہئے‘‘۔ محبوبہ کی پی ڈی پی حکومت کی اہم ساجھیدار بی جے پی کشمیر کے خصوصی موقف کی مخالف ہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان ویریندر گپتا نے گذشتہ روز کہا تھا کہ دستوری دفعات 370 اور 35 (ایف) کو اب خیرباد کہنے کا وقف آگیا ہے کیونکہ ان سے ’’علحدگی پسندانہ نفسیات‘‘ پیدا ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT