Saturday , October 21 2017
Home / سیاسیات / دستور کے جمہوری عنصر کا مذہبی سیاست کیلئے استحصال

دستور کے جمہوری عنصر کا مذہبی سیاست کیلئے استحصال

غیر قانونی قبضہ کر کے سڑکوں پر ٹریفک میں رکاوٹ بننے والی مذہبی عمارتوں کے ہٹانے پر سی آئی سی کا تبصرہ
نئی دہلی 21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی دستور کی سیکولر خصوصیت کا مذہب کی بنیاد پر سیاست کیلئے استحصال کیا جارہا ہے ۔ مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے غیر قانونی مذہبی تنظیموں کا سخت جائزہ لیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ یہ تبصرہ اطلاعاتی کمشنر سریدھر آچاریولو نے سبودھ راوت کی ایک درخواست سماعت کرتے ہوئے کیاجس میں محکمہ امور عامہ کی جانب سے رہتک روڈ پر مذہبی عمارتوں کو راستے سے ہٹادینے کے سلسلہ میں کی ہوئی کارروائی کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا۔یہ مذہبی عمارتیں ٹریفک کیلئے مسائل پیدا کررہی ہے۔ کمشنر نے کہا کہ شہریوں کی زندگیوں میں جس صورتحال کا غلبہ ہے اس میں ٹریفک کے مسائل سے زیادہ اہم پرامن زندگی ہے اور بدقسمتی سے اس صورتحال کا مفادات حاصلہ کی جانب سے مذہب اور مذہب کی بنیاد پر سیاست کیلئے استحصال کیا جارہا ہے انہیں سی ڈبلیو ڈی کے عہدیداروں کی جانب سے اطلاع دی گئی تھی کہ مذہبی عمارتوں کا معاملہ جامع بحث اور مذہبی کمیٹی کی انہیں علحدہ کردینے کی سفارشات پر مبنی ہے۔لیفننٹ گورنر نے ہدایت دی تھی کہ ایک قانون بنایا جائے اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے تخمینہ کا حکم دیا جائے جس کا دہلی پولیس کی جانب سے مدد کیلئے انتظار ہے تا کہ وہ غیر قانونی قبضہ کر کے تعمیر شدہ مذہبی عمارتوں کے ہٹانے میں مدد دے سکے ۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد آچاریولو نے کہا کہ اس سے بد بختانہ حالات امور کی عکاسی ہوتی ہے جہاں انتظامیہ کو غیر قانونی تعمیر شدہ عمارتیں علحدہ کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے کیونکہ یہ ایک مذہبی عمارت ہے اور امکان ہے کہ اس کے ہٹانے سے نظم و قانون کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا ۔ اطلاعاتی کمشنر نے کہا کہ درخواست گذار کو یہ بات سمجھ لینا چاہئے حالانکہ مایوس کن تاخیر ہوچکی ہے اس لئے پی ڈبلیو ڈی کیلئے یہ ناممکن ہے کہ ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کرنے والی عمارتوں کو پولیس کی مدد کے بغیر منہدم کیا جائے ۔ حق معلومات قانون کے تحت درخواست گذارش کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ دستور کی سیکولر خصوصیت کو مذہب کی بنیاد پر سیاست کو فروغ دینے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور پی ڈبلیو ڈی کے شعبہ پر اس سلسلہ میں دباو ڈالنا بے فائدہ ہے ۔ آچاریولو نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ محکمہ پی ڈبلیو ڈی کو اطلاع دی جائے اور درخواست گذارکور ممکنہ طور پر اندرون ایک ماہ کی مدد میں اطلاع دی جائے اور غیر قانونی عمارتوں کو ہٹا دینے کا پروگرام بنایا جائے ۔ کمشنر نے سفارش کی کہ دہلی انتظامیہ ‘لیفننٹ گورنر ‘چیف منسٹر ‘چیف سکریٹری اور دہلی پولیس اس مسئلہ پر کارروائی کر کے دہلی کی سڑکوں سے نشاندہی کی ہوئی غیر قانونی قبضہ کر کے تعمیر کی ہوئی مذہبی عمارتوں کو ہائی کورٹ کی ہدایت اور مذہبی کمیٹی کی سفارش مورخہ 28 جنوری 2015 کے مطابق ہٹادے۔

TOPPOPULARRECENT