Friday , September 22 2017
Home / سیاسیات / دستور ہند میں آزادی تقریر و آزادی مذہب کی طمانیت

دستور ہند میں آزادی تقریر و آزادی مذہب کی طمانیت

گردی پڑوسی ملک سے ہندوستان برآمد کی جارہی ہے: نریندر مودی
واشنگٹن ۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج ہندوستان کے انسانی حقوق ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت دستور ہند کو ایک ’’حقیقی مقدس کتاب‘‘ سمجھتی ہے چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دستورہند میں آزادی تقریب و آزادی مذہب کی طمانیت کی گئی ہے۔ وہ امریکی کانگریس سے خطاب کررہے تھے۔ اپنی 45 منٹ طویل تقریر میں انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کو امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سالانہ رپورٹ کو مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے جس میں کہا گیا ہیکہ ہندوستان نے مذہبی آزادی ’’منفی راستے‘‘ پر 2015ء کے دوران جارہی تھی۔ مذہبی رواداری ’’انحطاط پذیر‘‘ ہوچکی ہے اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 کروڑ ہندوستانی آزادی اظہار رائے کا ہر پانچ سال میں ایک بار استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان کے بانیوں نے ایک ترقی یافتہ قوم تخلیق کی تھی جس کے خمیر میں آزادی، جمہوریت، مساوات شامل ہے۔ ہندوستان قدیم دور سے تنوع رکھتا ہے اور انسانیت کی خدمت کرنے والے دلیر افراد کی سرزمین ہے۔ انہوں نے دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر اظہارمسرت کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پڑوس سے دہشت گردی ہندوستان میں برآمد کی جارہی ہے۔

لشکرطیبہ، طالبان اور دولت اسلامیہ کا نفرت، قتل اور ہلاکتوں کا ایک ہی فلسفہ ہے۔ ہندوستان اور امریکہ میں امن اور دنیا کی خوشحالی کا نظریہ مشترک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا بشمول ہندوستان پر دہشت گردی کے سائے منڈلا رہے ہیں لیکن وہ امریکی کانگریس کی ستائش کرتے ہیں انہوں نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے اور سیاسی مفادات کیلئے دہشت گردی کو کبھی استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے شہری اور فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ امریکہ ممبئی میں نومبر 2008ء میں دہشت گرد حملوں کے وقت ہندوستان کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ، سوامی ویویکانند، مہاتما گاندھی اور اٹل بہاری واجپائی کے اقوال کا اپنی تقریر میں حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہند ۔ امریکہ غیرمعمولی تعلقات کے فروغ کا سفر انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی شرح ترقی 7.6 ہونے کا ادعا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے وسیع پیمانے پر مواقع موجود ہیں جن سے امریکی برادری استفادہ کرسکتی ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ شراکت داری کا جذبہ رکھتا ہے۔ ایک دوسرے پر انحصار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے امریکی کانگریس سے خطاب پر ارکان امریکی کانگریس پرجوش خیرمقدم کیا اور مودی کی بھرپور تعریف کی۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے امریکی کانگریس سے نریندر مودی کے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ہند ۔ امریکہ تعلقات میں ایک نئے راگ کا اضافہ کیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT