Saturday , July 29 2017
Home / شہر کی خبریں / دستور ہند میں تمام مذاہب کیلئے یکساں حقوق: اے کے خان

دستور ہند میں تمام مذاہب کیلئے یکساں حقوق: اے کے خان

بین مذاہب احترام اور ہم آہنگی وقت کی ضرورت۔ ایمپاورنگ ینگ گلوبل سٹیزنس‘ کانفرنس سے برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر مسٹر انڈریو میک الیسٹر نے بین مذاہب دوستی‘ بھائی چارگی‘ ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور عدم رواداری اور شکوک و شبہات کے خاتمہ کے لئے آپس میں میل جول‘ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ برٹش ہائی کمشنر آج عالمی نوجوان شہریوں کو بااختیار بنانے کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے مخاطب تھے جو برٹش ہائی کمیشن حیدرآباد‘ المعہد العالی الاسلامی کے باہم اشتراک اور ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی‘ این جی او روبرو کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ مشیر برائے اقلیتی امور حکومت تلنگانہ جناب عبدالقیوم خان‘ چیرمین مائناریٹی کمیشن جناب عابد رسول خان‘ ڈائرکٹر ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ مسٹر پیکیم سمیول‘ محترمہ انجم بابو خاں ڈائرکٹر اسپرنگ فیلڈ اسکولس و گلینڈل اکیڈیمی‘ ڈاکٹر سیتا مورتی سلور اوکس اسکول اس موقع پر شہ نشین پر موجود تھے۔ برٹش ڈپٹی ہائی کمشنر نے اس کانفرنس کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور ان کی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہوئے ان کے طرز زندگی میں سدھار اور مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتیازات کی وجہ سے افراد اور طبقات میں تفریق ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب اے کے خان نے کہا کہ دستور ہندکا اسلامی شریعت سے کوئی تضاد یا ٹکرائو نہیں ہے۔ دستور ہند میں تمام مذاہب کے لئے مساوی حقوق ہیں۔ دستور میں اقلیتوں کے لئے خصوصی مراعات ہیں۔ تاہم تعلیم اور مہارت کے ذریعہ حقوق‘ مراعات اور مواقع سے استفادہ کرنا چاہئے۔ جناب اے کے خان نے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کی تعلیمی میدان میں خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتوں کے لئے قائم کئے گئے ریسیڈنشیل اسکول کی تفصیلات بھی بیان کیں اور اس سے استفادہ کی ترغیب دی۔ جناب سید عمر جلیل سکریٹری مائناریٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ حکومت تلنگانہ نے برٹش ہائی کمیشن‘ المعہد العالی الاسلامی‘ ایم ایس ایجوکیشنل اکیڈیمی اور روبرو کے پراجکٹ کو اسکول کے سطح پر فروغ دینے کا تیقن دیا اور کہا کہ اس کانفرنس سے قبل منعقدہ ورک شاپس میں جو نصاب تدوین کیا گیا اور تدریس کے جو طریقے اختیار کئے گئے اس سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔ فائونڈر ؍ ڈائرکٹر ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی جناب محمد عبداللطیف خان نے پراجکٹ کی تفصیلات سے واقف کروایا اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ مسلمانوں میں تعلیمی شعور کی بیداری‘ باہمی تعاون سے علم کی روشنی پھیلانے کے عمل سے واقف کروایا۔’پارک حیات‘ میں منعقدہ اس کانفرنس کے بعد مسلم نوجوانون کو بااختیار بنانے کے موضوع پر پیانل مباحثہ ہوا جس میں انجم بابو خاں‘ مسٹر سمیول‘ عرشیہ ایوب‘ عابد رسول خان‘ ڈاکٹر سیتا مورتی نے حصہ لیا۔ جناب سید مصباح الدین ڈپٹی ڈائرکٹر ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ نیہا سویان‘ اسد مرزا میڈیا اڈوائزر برٹش ہائی کمیشن نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔ جناب اسد مرزا نے کہا کہ این جی او روبرو نے جو اسٹڈی مٹریل تیار کیا ہے اسے دیگر شہروں میں ہائی کمیشن کی جانب سے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے اسکول جانے والے بچوں میں دیگر مذاہب سے متعلق ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ اس عمر میں بچے جو دیکھتے اور سیکھتے ہیں‘ مستقبل میں اسی کے اثرات ان کی شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں۔قبل ازیں ’’ینگ مسلم اینڈ گلوبل سٹیزن‘‘ کے زیر عنوان ایک ہینڈ بل کی رسم اجراء انجام دی گئی۔ اس کے ذریعہ دیگر ادارے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔اس کانفرنس میں مختلف تعلیمی اداروں کے عہدیداروں اور نمائندوں نے شرکت کی جن میں ظفر جاوید‘ شہباز احمد‘ نسرین فاطمہ‘ عائشہ روبینہ‘ ڈاکٹر نیر فروزاں‘ مسٹر ایم ایس فاروق‘ ڈاکٹر احمد کمال قابل ذکر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT