Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دستور ہند میں ہر مذہب و طبقہ کے ماننے والوں کو برابر حقوق

دستور ہند میں ہر مذہب و طبقہ کے ماننے والوں کو برابر حقوق

دادری واقعہ کے خلاف احتجاج ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں دلت طلبا کا بیف کھانے کا پروگرام
حیدرآباد۔12اکٹوبر(سیاست نیوز) اتر پردیش کے دادری میںگائے کا گوشت رکھنے کی افواہ پر ہوئے اخلاق احمد کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی کے دلت ‘ بہوجن ‘ قبائیلی اور اقلیتی طلباء تنظیموں کے زیر اہتمام ’ بیف کھانے پر مارتے کیا‘ کے عنوان سے آرٹس کالج کے روبرو طعام بیف پروگرام منعقد کیا گیا ۔ ڈیموکرٹیک اسٹوڈنٹ یونین‘ تلنگانہ ویدیارتھی سنگھم‘ تلنگانہ دلت اسٹوڈنٹ فیڈریشن‘ ٹی وی وی اور مسلم اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ بیف پروگرام میں سینکڑوں طلباء نے حصہ لے کر دادری واقعہ کی مذمت کی۔ انہوں نے فرقہ پرستوں کو چیالنج کیاکہ وہ آرٹس کالج میںطلبا کے ساتھ اخلاق احمد جیسا سلوک کریں۔ عثمانیہ یونیورسٹی طلباء تنظیموں کے قائدین  کے سرینواس‘اروناک‘ آزاد‘ ایم بھاسکر ‘ جی سدرشن ریسرچ اسکالر پی ایچ ڈی پولٹیکل سائنس ‘ جی ستیار املو اور دیگر نے دادری واقعہ پر خاموشی کو ہندوستان کے جمہوری نظام کیلئے سنگین خطرہ قراردیا اور کہاکہ آزاد ہندوستان کے دستور میں ہر مذہب اورطبقے کا خا ص خیال رکھا گیا ہے ۔ طلبہ تنظیموں کے قائدین نے کہاکہ کسی بھی مذہب پر تحدیدات عائد کرنا دستور ہند کی عین خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے گائے کا گوشت رکھنے کی افواہ پر نہتے اور بے قصور شخص کو قتل کرنے کے واقعہ کی مذمت کی اور کہاکہ اخلاق احمد کے فریج سے ملے گوشت کی جانچ کے بعد فارنسک رپورٹ نے یہ واضح کردیا کہ مذکورہ گوشت بیف نہیں بلکہ مٹن تھا ۔ انہوںنے بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں گائو کشی پر امتناع کے نام پر فرقہ پرست طاقتو ں کے حوصلے بڑھانے کا بھی مرکز ی حکومت پر الزا م عائد کیا۔ دادری جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے سکیولر تنظیموں کو متحدہونے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے مذکورہ طلبہ تنظیموں کے قائدین نے کہا کہ کسی بھی مذہب پر کھانے پینے کی تحدیدات عائد کرنا غیر جمہوری ہوگا۔ دلت طلبا تنظیموں کے قائدین نے کہاکہ مسلمانوں سے زیادہ تعداد میں ہندو دلت بیف کا استعمال کرتے ہیںکیوں کہ بیف کا استعمال ٹی بی جیسی بیماری سے لڑنے میںانسان کی مدد کرتا ہے۔مذکورہ قائدین نے بیف کو فائدہ مند او رصحت بخش غذاقراردیتے ہوئے کہاکہ دلت‘ بہوجن‘ آدی واسی اور اقلیتی طبقات بیف کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں جو فرقہ پرست طاقتوں کے لئے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT