Thursday , September 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / دسہرہ سے تلنگانہ میں نئے اضلاع کا قیام یقینی

دسہرہ سے تلنگانہ میں نئے اضلاع کا قیام یقینی

عہدیداروں کی زمرہ بندی ‘ آفسوں کے قیام کیلئے سرعت پیدا کرنے کی ہدایت
کاماریڈی:11؍ اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نئے اضلاع کے قیام پر سنجیدہ اقدام کرتے ہوئے کیابنیٹ سب کمیٹی کا قیام عمل میں لایا۔ کل چیف منسٹر نے وزراء کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں چیف سکریٹری راجیو شرما، اسپیشل سکریٹریز ریمنڈ پیٹر، پردیپ چندرا، ایس کے جوشی کے علاوہ لیگل سکریٹری سنتوش ریڈی، ایڈوکیٹ جنرل راما کرشنا ریڈی، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر،وزیرعمارات و شوراع تملا ناگیشور، معدنیات بورڈ کے چیرمین سبھاش ریڈی و دیگر عہدیداروں کے ساتھ کل ایک جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے 22؍ اگست ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اطلاع ہے۔ چیف منسٹر دسہرہ سے نئے اضلاع کے قیام اور نئے اضلاع کے کام کاج بھی اسی دن سے شروع کرنے کیلئے سنجیدہ نظر آرہے ہیں۔اضلاع کے قیام پر عوامی نمائندے، عہدیدار اور مختلف گوشوں سے حاصل کردہ اطلاع پر واضح رپورٹ پیش کرنے کیلئے کیابنیٹ سب کمیٹی کا تقرر کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور ڈپٹی چیف منسٹر کڑیم سری ہری، ریاستی وزراء ایٹالہ راجندر، تملا ناگیشور رائو، جو پلی کرشنا رائو کو کیابنیٹ سب کمیٹی کے اراکین کی حیثیت سے مقرر کرتے ہوئے جلداز جلد رپورٹ پیش کرنے کیلئے ہدایت دی گئی ہے اور اس خصوص میں اپوزیشن کی رائے کو بھی حاصل کرنے کیلئے ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے تمام افراد کو اعتماد میں لینے کیلئے اپوزیشن اور عوام دیگر افراد سے حاصل کردہ رائے پر 15 دن پر اعتراضات حاصل کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کرنے کیلئے بھی احکامات دئیے گئے ہیں۔ اضلاع کے قیام پر چیف سکریٹری کی قیادت میں اب تک حاصل کردہ رپورٹ پر بھی غور و خوص کیا گیا آبادی اور رقبہ کے مطابق نئے اضلاع کے قیام پر جائزہ لیا گیا عوام کو سہولت پہنچانے کی غرض سے ہی نئے اضلاع کا قیام کے بارے میں فیصلہ کرنے کی اطلاع ہے اور اپوزیشن کی جانب سے کئے جانے والے اعتراضات کو بھی نظر انداز کرنے کی ہدایت دینے کی بھی اطلاع ہے۔ دسہرہ سے نئے اضلاع کا قیام عمل میں آنے کے امکانات کے پیش نظر ڈیویژنوں کے قیام اور عہدیداروں کی زمرہ بندی، آفسوں کے قیام کے بارے میں بھی تیزی پیدا کرنے اور قانونی طور پر پیدا ہونے والے اعتراضات و دیگر معاملات کا بھی جائزہ لینے کیلئے ہدایت دینے کی اطلاع ہے۔ واضح رہے کہ نئے اضلاع کے قیام میں کاماریڈی ضلع بھی شامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT