Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / دس بچے پیدا کرنے کا مشورہ دینے والے شنکراچاریہ کو ایک ہندو خاتون کا کھلا خط

دس بچے پیدا کرنے کا مشورہ دینے والے شنکراچاریہ کو ایک ہندو خاتون کا کھلا خط

ہمیشہ سے تبدیلی ہوتی رہی دنیا میں رہنے کا ایک اصول یہ ہے کہ وقت کے مطابق ہر چیز خود کو بدلے۔ جو کوئی وقت کے ساتھ خود کو بدلتا نہیں ہے اس کا خاتمہ جلد ہی ہو جاتا ہے۔ باقی سب چیزوں کی طرح ہی مذہب پر بھی یہ قاعدہ لاگو ہوتا ہے۔کوئی بھی مذہب بڑھ نہیں سکتا جب تک وہ اپنی ذہنیت اور سوچ کو وقت کے ساتھ نہ بدلے۔ آج ہندو مذہب کے سادھو لوگ میڈیا میں بچے پیدا کرنے کے بیانات اور مشوروں کے حوالے سے شہ سرخیوں میں ہیں۔ایسے لوگوں کو کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر جگہ ملنے سے جہاں ان لوگوں کو مفت کی پبلسٹی ملتی ہے وہیں دوسری طرف منطقی سوچ رکھنے والے لوگوں کو ان ’’ٹھگی باباؤں‘‘کی اصلیت اور سوچ کی سطح کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک بابا یا یوں کہیں کے کمینے بابا کا بیان گزشتہ دنوں ٹی وی اور اخبار میں دیکھا تو دماغ غصے سے بھر اٹھا۔ دل میں تو آیا کہ اس بابا کو سربازار گھسیٹ کر پیٹا جانا چاہئے لیکن ویسے وہ تو ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ملک کے قانون کی نظر میں ٹھیک ہے۔ٹھیک ہے، چلئے واپس موضوع پر آتے ہیں۔ سرخیوں میں آنے کے لئے آج کل کے سادھو باباؤں نے جو سب سے آسان طریقہ تلاشا ہے وہ ہے ہندو مذہب اور ثقافت کے بارے میں بیان بازی کرنا۔
کبھی بابری مسجد کا معاملہ شروع کر کے تو کبھی ہندو مائیں کتنے بچے پیدا کریں اس بات کو لے کر۔ خود کو ایسا ہی ایک عظیم سادھو سمجھنے والا ٹھگ اور ذلیل بابا ہے شنکراچایہ نریدرانند سرسوتی۔ میرا یہ کھلا خط اس بابا اور عورتوں کو بچے پیدا کرنے کا مشورہ دینے والے ایسے ہی باقی باباؤں کے لئے ہے۔

نمشکار … نریدرانند سرسوتی…… نمشکار
صرف اس وجہ چونکہ لوگوں کو بلانے کا یہ طریقہ پورے ہندوستان میں استعمال کیا جاتا ہے ۔غلطی سے بھی اسے یہ مت سمجھنا کہ نمشکار ایک سادھو کی حیثیت سے دیکھنے والے کسی بھگت نے کیا ہے۔ تو مسئلہ یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میں نے ٹی وی اور اخبار میں آپکا دیا ہوا ایک بیان سنا اور پڑھا۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’’ملک میں ہندو ثقافت کو خطرہ ہے، جہاں جہاں بھی ہندوؤں کی تعداد کم ہوا ہے دہشت گردی پھیلا ہوا ہے، ہندو مائیں کم سے کم 10 بچے پیدا کریں اور اگر انہیں نہ پال پائیں تو میرے پاس بھیج دیں، میں انہیں پالوںگا ‘‘اس بیان کو پڑھ میں خود کو روک نہ پائی۔ یہ خط لکھ کر آپ سے کچھ سوال پوچھنے چاہتی ہوں۔ اورنیچے دیئے گئے سوالات کا جواب میں مانگ رہی ہوں جو مجھے نہیں لگتا کہ ایک بے عقل انسان دے سکتا ہے۔ میرے اس سوالات کو پڑھ کر مجھے امید ہے کہ بہت سے ہندو اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان سوالات کے جوابات کی جگہ شاید مجھے گالیاں ہی دیں گے لیکن گالیاں دینے والے پہلے جا کر اپنی ماؤں سے پوچھ لیں کہ وہ اپنے ماں باپ کے کتنے نمبر کی اولاد ہیں ۔ اور جہاں تک مجھے لگتا ہے ان کا جواب اکلوتی، دوسری، تیسری یا چوتھی ہی ہوگا۔ شاید ہی کوئی ایسی ماں ہوگی جس نے 10 بچوں کو جنم دیا۔تو، میرے کچھ سوالات ہیں جن کا جواب اگر تم سوچ سکو تو دینے کی کوشش کرنا نہیں تو میں سمجھ جاؤں گی کہ ان سوالات کا جواب دینے کے قابل تم ہو ہی نہیں ۔اور جیسا کہ پوری دنیا جانتی ہے مذہب کے نام پر بھارت میں کاروبار ہو رہا ہے یہ بات ثابت ہو ہی جائے گی۔ میرے سوال کچھ اس طرح سے ہیں:
1) عورتیں 10 بچے پیدا کیوں کریں؟
2) کیا تمہاری ماں نے 10 بچے پیدا کئے؟
3) 10 بچے پیدا کرنے کی سمت میں تم نے کون سا قدم اٹھایا؟
4) لوگوں کو مشورہ دینے سے پہلے کیا تم نے خود کسی بچے کا باپ ہونے کی ذمہ داری اٹھائی ہے؟
5) لوگوں کے دیئے گئے چندے کی بھیک پر پلنے کے علاوہ کیا خود کبھی کوئی پیسہ کمایا ہے؟

6) کبھی کسی عورت کو پچھا ہے کہ ایک بچہ پیدا کرنے کے لئے کیا کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے؟
7) ہندو ثقافت کو بچانے کے لئے ایسا کون سا اچھا کام آپ کر رہے ہو جو تمہیں ایسی بیان بازی کرنے کا حق دیتا ہے؟
….ان سوالوں کا جواب اگر آپ دے سکو تو میں تم سے کچھ اور سوال پوچھنا چاہوں گی اور اس حق سے پوچھنا چاہوں گی چونکہ (1) میں ایک عورت ہوں اور تم نے عورتوں پر ریمارک کیا ہے۔ (2) میں اس اباگھے ملک میں رہ رہی ہوں جہاں مذہب کے نام پر مندروں میں لاکھوں کے عطیہ شدہ رقم جاتے ہیں اور باہر بیٹھے غریبوں کو لاتیںاور گالیاں بھر ہی ملتی ہیں۔ جبکہ اندر بیٹھے آپ جیسے لوگ بغیر ہاتھ تک کالاکئے مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہو۔جہاں تک میں آپ کی طرح منافق باباؤں کو سمجھ سکی ہوں اپنے پوچھے گئے کچھ سوالات کے جواب میں خود بھی دینا چاہوں گی ۔اور یاد رکھنا یہ جواب آپ کی طرح سادھوؤں کی کرتوتوں کو اچھے سے ریسرچ کر کے تاریخ سے معلومات لے کر اس بنیاد پر لکھے گئے ہیں۔ ان جوابوں پر یا خیالات پر ،اوروں پرانگلی اٹھانے سے پہلے ڈ ھنگ سے معلومات حاصل کر کے آنا نہیں تو منہ کی کھاؤ گے۔   میرے جواب:   تمہارا کہنا ہے کہ ہندو مائیں 10 بچے پیدا کریں تاکہ مذہب کی حفاظت ہو سکے۔ میں پوچھتی ہوں مذہب کی ایسی کون سی دیوار ہے جو گر رہی ہے اور انسانوں کی فوج اسے تھام کر کھڑی رہ سکتی ہے؟ مذہب کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور مذہب پر کبھی کوئی مصیبت نہیں آ سکتی چونکہ سب کو ایک برابر ماننا ہی کہلاتا ہے مذہب نہ کہ تفریق کرنا سکھاتا ہے مذہب؟، جیسا کہ آپ جیسے چند لوگوں نے اپنے فائدے کے لئے مذہب کو بنا رکھا ہے لوگوں کو ذاتوں اورفرقوں میں بانٹ کر….مذہب وہ ہے جو تمام انسانوں کے لیے مل کر بھائی چارے سے رہنا سکھاتا ہے نہ کہ انہیں مندر مسجد کے پیچھے لڑواتا ہے۔ گئو کشی کا الزام لگا کر مرواتا ہے۔اصل میں وہ جسے تم مذہب کہہ رہے ہو نہ وہ صرف تمہاری خود غرضی ہے تمہارا دھندہ ہے جس میں تم لوگوں کو بانٹ کر، ڈرا کر، نفرت پیدا کر چلا رہے ہو۔ اصل مذہب انسان کے اندر ہوتا ہے جو اسے کمینے پن اور غلط کاموں سے دور رکھتا ہے اور اسے سمجھ دیتا ہے۔

اور جہاں تک 10 بچے پیدا کرنے کی بات ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ تمہیں لاوارث پھرتے، ادھ پلا بڑھا بچہ اس لئے ضروری ہے تاکہ تم ان بھوکے ننگوں کی فوج پیدا کر سکو جو کہ تمہارے اس دھندے کو چلانے میں تمہاری مدد کر سکے۔ اور اس لیے بھی،تاکہ ہندو مسلمانوں کی لڑائیوں میں وہ آپ جیسے لوگوں کے اشارے پر ناچ سکیں۔ جیسا کہ بابری مسجد یا گودھرا اور مظفرنگر معاملات میں ہوا۔ یا ہاشم پورہ میں یا پھر دادری میں اخلاق کے ساتھ ہوا ؟ تاکہ جس ماں نے تمہیں پیدا کیا، (مجھے افسوس ہے اس کی ماں کیلئے) اسی کے حقوق کا تم پامالی کر سکو۔ مذہب اور اقدار کے نام پر ہی عورتوں کو مرد پیچھے رکھتے آئے ہیں۔ عورت چلے گی تو مرد سے پیچھے چلے گی۔ کمائگی نہیں ۔کیوںکے اگر وہ کمانے لگی تو وہ مرد کے برابر پہنچ جائے گی ۔اور اپنا حق جان جائے گی۔ مندر میں عبادت کرے گی تو تم جیسے پجاریوں کا کیا ہوگا؟۔ یہی سب ڈر جو تم جیسے لوگوں کے اقدار کو گھیرے ہوئے ہیں انہی کو لے کر عورت کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی آرہی ہے۔ اور جب تک تمہاری طرح کے لوگ زندہ رہیں گے ہوتا رہے گا۔تم اس لئے بھی لوگوں کی فوج چاہتے ہو، تاکہ تمہارا ذات پات کا نعرہ بلند رہے اور لوگ ہمیشہ ہی بٹتے رہیں اور تم اپنے مذہب کی بین بجاتے رہو تاکہ تم سکون سے نٹھللو کی طرح بیٹھے کھاتے رہو۔ دل میں آیا تو ایسا ہی کوئی بیان پھر سے دے دیا۔ حکومت کی نظر میں آ گئے تو ایک آدھ ٹکٹ تو مل ہی جائے گی۔ پھر پارلیمنٹ میں ٹیبل ٹھوک کر ترقی کی اور لے جانے والے ہر بل کا راستہ بھی روکوگے۔ تاکہ تمہاری دکانداری چلتی رہے۔اور اس وجہ سے بھی آپ کو لاکھوں کی فوج چاہئے ہوگی تاکہ بھگوے پرچم کا نعرہ دے کر وہ ان پڑھ بھوکے ننگے تمہارے ٹکڑوں پر پلنے والے لوگ دوسرے مذہب کے ہر آدمی کا گلا اسی بھگوے جھنڈوں سے گھونٹ دیں جو آپ ملک کے ہر کونے میں پھہرانا چاہتے ہو۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کوئی عورت ایسی ناقص اور گھنونے کاموں کے لئے 10 بچے پیدا کیوں کرے؟ اپنی ماں سے جا کر سوال کرنا کہ تمہیں 9 ماہ پیٹ میں رکھنے والی ماں نے ان 9 ماہ میں کتنی تکلیفوں کا سامنا کیا تھا

اور یہ بھی کہ کیا حالت تھی اس کی تمہیں جنم دیتے وقت؟ ظاہر سی بات ہے کہ وہ لمحہ وہ مہینہ اس کے لئے کافی تکلیف بھرے رہے ہوں گے۔ اپنی ماں سے جا کر پوچھو کہ کیا وہ 10 بچے پیدا کرے تمہیں دے گی تاکہ تم ہندو مذہب کی حفاظت کے لئے انہیں پہریدار بنا سکو؟ کوئی عورت تمہارے ان ناقص ارادوں کیلئے اتنے بچوں کو جنم کیوں دے گی؟ اپنی زندگی کے قریب قریب 10 سال وہ کیوں برباد کرے گی بچوں کو جنم دینے میں اور کیوں بھیجے گی تم جیسے جاہل اور نالائق انسان کے پاس جو مذہب کی آڑ میں مفت کی روٹیاں توڑ لوگوں کو بے وقوف بنا رہا ہے؟ جو محنت کرکے اپنا پیٹ تک نہیں پال سکتا اس لئے بھگوا پہن بیٹھا ہے سچے سادھوؤں کو بھی بدنام کر رہا ہے۔آپ کی طرح سادھوؤں کا حال واقعی ترس کھانے کے قابل ہے۔ سادھو وہ ہوتا ہے جو دنیا اور دنیا کے موہ چھوڑ کر اپنی زندگی اس اوپروالے کے ہاتھ سونپ دیتا ہے اور آپ ہیں جنہیں بھگوا پہننے کے بعد بھی عورتوں کے ہی خیال آتے رہتے ہیں اور آپ اسی بات کی گنتی کرتے رہتے ہو کہ ایک عورت کتنے بچے پیدا کرے۔میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتی ہوں نریدرانند، سائنس نے کافی ترقی کر لی ہے اور شاید ڈاکٹر تمہارا جنس تبدیلی کرنے میں تمہاری مدد کر سکے۔ تب تم 10 بچوں کو جنم دے کر دنیا کے سامنے آؤ گے تو شاید باقی عورتیں بھی ہندو مذہب کی حفاظت کے لئے 10 بچے پیدا کرنے کی بات سوچ سکیں۔

TOPPOPULARRECENT