Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / دس عدد سرکاری اداروں پر عنقریب نامزد عہدوں کے تقررات

دس عدد سرکاری اداروں پر عنقریب نامزد عہدوں کے تقررات

ٹی آر ایس قائدین کی بے چینی کو دور کرنے حکومت تلنگانہ کی مساعی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مئی (سیاست نیوز) برسر اقتدار ٹی آر ایس پارٹی قائدین نے نامزد عہدوں کے سلسلہ میں بے چینی دور کرنے کیلئے بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ 10 سرکاری اداروں پر تقررات کی تیاری کر رہے ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے موجودہ صدور نشین کی کارکردگی کے بارے میں مختلف ذرائع سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پارٹی پلینری میں تمام اضلاع سے شرکت کرنے والے پارٹی قائدین نے گزشتہ تین برسوں میں انہیں عہدوں سے محروم رکھنے کی شکایت کی۔ پارٹی کے قیام سے وابستہ کئی قائدین آج تک بھی عہدوں سے محروم ہیں۔ اس بارے میں دن بہ دن بڑھتی بے چینی سے چیف منسٹر کو وزراء نے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے بہت جلد 10 اداروں پر تقررات کا من بنالیا ہے اور اس سلسلہ میں قائدین کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق نامزد عہدوں پر تقررات میں تاخیر کی ایک اہم وجہ موجودہ صدورنشین کی کارکردگی پر چیف منسٹر کا عدم اطمینان ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے اب تک جتنے بھی کارپوریشنوں پر تقررات کئے ، ان میں سے بہت کم ادارے متحرک ہے اور صدورنشین حکومت کی اسکیمات کو عوام تک پہنچانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی گئی کہ بیشتر صدورنشین صرف اپنی شخصی تشہیر کے کاموں میں مصروف ہیں اور انہوں نے پارٹی کے استحکام پر کوئی توجہ نہیں دی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے مختلف مشیروں اور دیگر ذرائع سے چیف منسٹر نے کارپوریشنوں کی کارکردگی پر رپورٹ طلب کی ہے۔ حالیہ عرصہ میں چیف منسٹر نے 10 کارپوریشنوں کے صدورنشین کو نامزد کیا لیکن ابھی تک بورڈ آف ڈائرکٹرس کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی پلینری میں بہتر کارکردگی کے معاملہ میں کھمم سے تعلق رکھنے والے برہان بیگ سرفہرست رہے جو تلنگانہ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرنشین ہیں، انہوں نے صدارت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی خود کو پارٹی رکنیت سازی میں مشغول کردیا تھا۔ انہوںنے کھمم میں پانچ لاکھ سے زائد رکنیت سازی کا نشانہ مکمل کیا جس سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کافی خوش ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ برہان بیگ نے رکنیت سازی کی تکمیل تک اپنے چیمبر میں قدم نہیں رکھا تھا جبکہ دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے صدورنشین شاہ رکنیت سازی اور جلسہ عام میں عوام کی شمولیت کے سلسلہ میں حصہ داری مایوس کن رہی۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ غیر کارکرد صدورنشین کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کے بارے میں رپورٹ ملتے ہی پارٹی سطح پر جائزہ اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ آف ڈائرکٹرس کے انتخاب کے سلسلہ میں متعلقہ اداروں پر عبور رکھنے والے قابل افراد کی تلاش جاری ہے تاکہ ان کے ذریعہ صدور نشین کی سرگرمیوں پر کنٹرول کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے سابقہ روایتوں سے انحراف کرتے ہوئے پہلی مرتبہ عام زمرہ کے اداروں پر اقلیتی قائدین کا تقرر کیا۔ اقلیتی صدورنشین کی کارکردگی کے بارے میں حکومت کے مشیر اے کے خاں سے رپورٹ طلب کی جارہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT