Monday , May 1 2017
Home / شہر کی خبریں / دس کارپوریشن میں بورڈ آف ڈائرکٹرس کے ناموں کا اعلان ہنوز باقی

دس کارپوریشن میں بورڈ آف ڈائرکٹرس کے ناموں کا اعلان ہنوز باقی

صدور نشین کے اعلان کے بعد قائدین کی دوڑ دھوپ ، چیف منسٹر سے نمائندگیاں و سفارشوں میں اضافہ
حیدرآباد۔3 مارچ (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے 10 سرکاری اداروں کے صدورنشین کے تقررات کے بعد دیگر اداروں کے سلسلہ میں پارٹی قائدین کی جانب سے دوڑ دھوپ نے شدت اختیار کرلی ہے۔ چیف منسٹر نے 10 مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین کے ناموں کا اعلان کیا جن میں 5 ادارے مسلم اقلیتی قائدین سے پر کئے گئے۔ حکومت کے اس فیصلے سے پارٹی کے اقلیتی قائدین میں اگرچہ مسرت کی لہر دوڑ گئی تاہم وہ قائدین جنہیں نامزد عہدوں میں موقع نہیں دیا گیا وہ مایوس ہیں اور انہوں نے دیگر اداروں پر تقررات کی آس میں چیف منسٹر اور وزراء کے پاس پیروی شروع کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے اقلیتی قائدین کو امید ہے کہ باقی تین اقلیتی ادارے اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور اقلیتی کمیشن پر جلد تقررات کئے جائیں گے۔ لہٰذا وہ ان عہدوں کے لیے اپنی مساعی کا آغاز کرچکے ہیں۔ 5 کارپوریشنوں پر صدورنشین کا تقرر کیا گیا لیکن بورڈ آف ڈائرکٹرس کے ناموں کا اعلان ابھی باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے بورڈ آف ڈائرکٹرس میں پارٹی کے سینئر قائدین کی شمولیت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان میں پھیلی ناراضگی کو دور کیا جاسکے۔ کئی قائدین ایسے ہیں جو بورڈ آف ڈائرکٹرس میں شمولیت کے لیے راضی نہیں۔ انہیں صدرنشین کے عہدے کی امید تھی۔ پارٹی کے ناراض کیڈر کو منانے کے لیے وزراء اور سینئر قائدین حرکت میں آچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ورنگل، کھمم، نظام آباد اور کریم نگر سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے اقلیتی قائدین نے نئے صدورنشین کے ناموں پر اعتراض جتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے قیام سے وابستہ حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین ان کے ضلع کو نمائندگی نہ دیئے جانے پر مایوسی کا شکار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام 10 صدورنشین اور بورڈ آف ڈائرکٹرس کے ناموں کے ساتھ علیحدہ سرکاری احکامات آئندہ ہفتے جاری کیئے جائیں گے۔ اسی دوران پارٹی کے اقلیتی قائدین نے حج کمیٹی، اردو اکیڈمی اور اقلیتی کمیشن کے صدرنشین کے عہدوں کے لیے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے سرکاری عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں چیف منسٹر کو قائدین کے ناموں کی فہرست پیش کی تھی اور توقع ہے کہ اسی فہرست میں سے باقی اداروں پر تقررات کی تکمیل ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی حلیف مقامی جماعت نے ایک سرکاری ادارے پر اس کے سفارش کردہ شخص کو نامزد کرنے کی چیف منسٹر سے درخواست کی ہے۔ حج کمیٹی یا اردو اکیڈیمی میں سے کوئی ایک ادارہ حلیف جماعت کو الاٹ کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر نے قطعی طور پر کوئی تیقن نہیں دیا تاہم پارٹی کے سینئر قائدین حلیف جماعت کو نامزد عہدے حوالے کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے کئی قائدین عہدوں کے منتظر ہیں اور اگر مقامی جماعت کو نامزد عہدے الاٹ کیئے گئے تو اس سے پارٹی کیڈر میں ناراضگی پیدا ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کیشور رائو کو چیف منسٹر نے ذمہ داری دی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کریں۔ مقامی جماعت نے قانون ساز کونسل کی دو نشستوں کا مطالبہ کیا ہے جن میں سے ایک نشست مجالس مقامی حیدرآباد سے مجلس کو الاٹ کی گئی جبکہ وہ ارکان اسمبلی کوٹے میں بھی ایک نشست کی مانگ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت اور حلیف جماعت میں مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT