Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / دشمنان اسلام کی خوشنودی کیلئے بنگلہ دیش میں کاروبار قتل و خون

دشمنان اسلام کی خوشنودی کیلئے بنگلہ دیش میں کاروبار قتل و خون

مولانا مطیع الرحمن نظامی کی پھانسی پر امیر جماعت اسلامی ہند کا ردعمل

نئی دہلی ۔ 13 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر اور ملک کے نامور رہنما مولانا مطیع الرحمن نظامی کو شیخ حسینہ واجد حکومت کے ذریعہ پھانسی دئیے جانے کو امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے عدل و انصاف اور اسلامی و انسانی روایت کے خون سے تعبیر کرتے ہوئے اس ظالمانہ و سفاکانہ عمل کی شدید مذمت کی ہے ۔ موصوف نے کہا کہ جس نام نہاد جنگی جرائم ٹریبیونل کے فیصلوں کے تحت ملک کی عظیم شخصیات کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جارہا ہے اس کے متعلق یہ صرف ہماری ہی رائے نہیں ہے بلکہ مختلف انسانی حقوق کے مختلف بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی یہ بات آتی رہی ہے کہ یہ ٹریبیونل اور اس کے فیصلے انصاف کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ حیرت ہوتی ہے کہ حسینہ واجد فکر آخرت اور روز محشر اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں جواب دہی کے احساس سے کس طرح اتنی عاری ہوگئی ہیں کہ جو لوگ بنگلہ دیش میں اسلامی و انسانی خدمت کا طویل اور اعلیٰ ریکارڈ رکھتے ہیں انہیں ایک ایک کر کے وہ ظلم کا شکار بناتی ہوئی موت سے ہمکنار کررہی ہیں ۔ وہ کیوں فراموش کر گئیں ہیں کہ ایک انسان کے بھی ناحق قتل کو اسلام ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔ مولانا عمری نے بتایا کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا پے در پے قتل وزیر اعظم شیخ حسینہ کی کھلی ہوئی سیاسی انتقامی کارروائی پر دلالت کرتا ہے کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے ساتھ ابھی چند سال قبل ہی انہوں نے سیاسی اتحاد کیا تھا اور متحدہ حکومت تشکیل دی تھی اور اسی جماعت اسلامی کے قائدین آج ان کے حلیف نہیں ہیں تو وہ طرح طرح کے جرائم کے مجرم قرار دیے جارہے اور موت سے ہمکنار کیے جارہے ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے محترمہ حسینہ واجد کو یاد دلایا کہ انہیں یہ سلسلہ جبر و استبداد انتقامی کارروائی کرتے ہوئے یہ نہیں فراموش کرنا چاہئے کہ اللہ تعالی کی عظیم ذات سب سے بڑی منتقم بھی ہے اور اگر بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے ذریعہ چلایا جانے والا کاروبار قتل و خون اسلام مخالف قوتوں کی خوشنودی کے حصول کیلئے ہے تو حقیقتاً یہ ان کو رضائے الٰہی سے بہت دور کرنے والا عمل ہے جس سے ان کو توبہ کرنا اور اپنے مظالم کی تلافی کی تدبیر کرنا چاہئے ۔ مولانا عمری نے فرمایا کہ دنیا کے تمام اہل ایمان اس ارشاد ربانی پر یقین رکھتے ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں بغیر کسی قصور کے مارا گیا وہ شہید ہے۔ چنانچہ مولانا مطیع الرحمن بھی اللہ کے حضور سرخرو ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمتوں میں ڈھانپ لے کہ انہوں نے فانی زندگی کیلئے ظالموں سے بھیک نہیں مانگی بلکہ جان دے کر حق کا پرچم بلند رکھا ۔

TOPPOPULARRECENT