Friday , August 18 2017
Home / کھیل کی خبریں / دعاؤں نے میری تقدیر بدل دی : عثمان خواجہ

دعاؤں نے میری تقدیر بدل دی : عثمان خواجہ

دعا مانگتا رہا ، مشکلیں آسان ہوگئیں،واحد آسٹریلیائی مسلم کرکٹر کا اعتراف
ملبورن ۔ 3 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) دعا انسان کی تقدیر بدل دیتی ہے، کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن میں نے کبھی ہمت نہیںہاری، ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا رہا اور ان دعاؤں کی بدولت ہی آج میں کامیاب ہوں۔ یہ الفاظ ہے پاکستانی نژاد آسٹریلیائی بلے باز عثمان خواجہ کے۔ 29 سالہ ٹاپ آرڈر بیٹسمین عثمان خواجہ نے کرک انفو کو ایک انٹرویو میں کہا کہ مذہب نے میری تقدیر بدلنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، میں ہر وقت اللہ سے دعا کرتا رہتا ہوں، اسی وجہ سے میرا دھیان صرف کھیل کی طرف رہتا ہے۔عثمان خواجہ کو آسٹریلیا کے پہلے مسلمان کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جنہوں نے 2011 ایشزسیریز میں ٹسٹ کرکٹ میں ڈیبو کیا۔عثمان خواجہ کو اپنے کیرئیر کے آغاز میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کو کئی بار ٹیم سے ڈراپ کیا گیا لیکن انہوں نے ہمت سے کام لیا۔2014 میں عثمان خواجہ کو گھنٹے کی انجری کی وجہ سے 6 ماہ کیلئے کرکٹ کے میدان سے باہر بیٹھنا پڑا۔ خیال رہے کہ اس دوران آسٹریلوی بیٹسمین فلپ ہیوز کی سر پر گیند لگنے سے تین دن بعد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ اس حوالے سے عثمان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے پہلے ہی فلپ ہیوز کی موت کا صدمہ تھا اس کے بعد میں انجری کا شکار بھی ہوگیا، وہ دور میری زندگی کا بدترین دور تھا‘‘۔بعد ازاں عثمان خواجہ نے 2015 میں انجری کے بعد کرکٹ کے میدان میں شاندار کم بیک کیا اور 2015 نومبر،برسبین میں نیوزی لینڈ کیخلاف ٹسٹ میں پہلی اننگز میں 174 اوردوسری اننگز میں 9 رنز بنائے۔انہوں نے انجری سے نجات پانے کے بعد نیوزی لینڈ کیخلاف تین ٹسٹ میں تین سنچریاں داغ دیں۔ عثمان نے ان ٹسٹ میچز میں بالترتیب 174، 121 اور 144 رنز کی اننگز کھیلی۔ انہوں نے عمدہ پروفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2014 کی 101.85 رن ریٹ کی اوسط کو برقرار رکھا۔ عثمان خواجہ کی شاندار کارکردگی نے کرکٹ آسٹریلیا کو تینوں فارمیٹ میں شامل کرنے پر مجبور کردیا اور ان کو 2015 دورہ ہندوستان میں ٹیم ‘اے’ کی کپتانی قیادت بھی سونپ دی گئی۔

TOPPOPULARRECENT