Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / دعوت و تبلیغ کا کٹھن اور صبرآزما دور

دعوت و تبلیغ کا کٹھن اور صبرآزما دور

ہادی عالم نبی مکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کو اسلام کی دعوت و تبلیغ سے روکنے کے لئے مشرکین مکہ اور مخالفین اسلام نے اسقدر کوششیں کیں اگر وہ کسی دوسرے باہمت کے ساتھ کی جاتیں وہ کبھی میدان چھوڑ چکا ہوتا ۔ اس لئے سورۃ ابراھیم میں ہے : ’’اور انھوں نے اپنا مکر کیا اور ان کا مکر و تدبیر اﷲ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے گو ان کا مکر ایسے غضب کا تھا کہ اس سے پہاڑ بھی ٹل جائیں‘‘ ۔ (سورۂ ابراھیم : ۴۷)
نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو دعوت اسلام سے روکنے کیلئے دشمنوں نے جو سب سے پہلی تدبیر اختیار کی وہ یہ تھی کہ آپ کا سائے کی طرح تعاقب کیا جاتا ۔ آپ جس شخص سے بھی گفتگو فرماتے ، تعاقب کرنے والا ، آپ کی گفتگو میں مداخلت کرتا اور لوگوں سے کہتا کہ وہ آپ کی بات نہ سنیں، کیونکہ آپؐ ( معاذاﷲ) بے دین ہیں اور کبھی جادوگر قرار دیا جاتا۔ عام طورپر ابولہب یہ کام کرتا ۔ ( ابن الجوزی : الوفا ، ۲۱۵ تا ۲۱۶) پھر ایسا بھی ہوتا کہ جب نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم انہیں قرآن مجید سناتے تو وہ اتنا شوروغل کرتے کہ آپ کے لئے قرآن حکیم کی تلاوت کرنا مشکل ہوجاتا ۔
آپ کا تعاقب کرنے کے ساتھ ساتھ دشمنانِ اسلام آنحضور ﷺ کو آپ کے سامنے اور آپ کے پیچھے طنزیہ اور استھزائیہ جملوں کا نشانہ بناتے ۔ اس شرارت کی ابتداء اسی دن ہوگئی تھی جب آپ ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر اعلانِ نبوت کیا تھا ۔ اس موقعہ پر ابولہب نے کہا تھا : تبالک سائرالیوم لھذا دعوتنا یعنی تمام دن کے لئے آپ کی خرابی ہو ہمیں اس لئے یہاں بلایا تھا ۔ ( ابن کثیر، ۱:۴۵۶)
اس کے علاوہ جب نبی اکرم ﷺ نے اپنے خاندان بنوہاشم کو کھانے پر مدعو کیا تو اس موقعہ پر بھی ابولہب نے زیادتی کی اور نبی اکرم ﷺ کو نعوذباﷲ جادوگر قرار دیا۔
طنزیہ فقرے بعض اوقات برا بھلاکہنے سے بھی زیادہ دل جلاتے اور انسان پر نفسیاتی طورپر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ حربہ جس شدت کے ساتھ آپ ﷺ کے خلاف آزمایا گیا اس کی تاریخ عالم میں کم ہی مثالیں ملتی ہیں۔ آپ ﷺ جس طرف بھی تشریف لے جاتے مشرکین طنز یہ فقروں سے آپ کو تکلیف پہنچاتے ۔ قرآن کریم میں ہے :
’’وہ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے تمسخر کرنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کیایہی ہیں جن کو خدا نے رسول بناکر بھیجا ہے ‘‘۔ (سورۃ الفرقان:۴۱)
اﷲ سبحان و تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے آیت قرآنی کو نازل فرمایا :
’’ہم آپ کے لئے تمسخر کرنے والوں کے مقابل میں کافی ہیں‘‘۔ (الحجر:۸۶)
ان سب طریقوں کے باوجود جب آپ ﷺ نے دعوت و تبلیغ کا کام موقوف نہ کیا تو مشرکین کی طرف سے عتبہ بن ربیعہ نے آپ کو دعوت حق سے دستبرداری کی صورت میں مکہ مکرمہ کی ریاست ، عرب کے بڑے بڑے گھرانوں کی خوبصورت عورتوں سے شادی اور مال و دولت کے ذخیروں کی پیش کش کی ، لیکن آپ نے جواب میں حم السجدۃ کی آیات تلاوت فرماکر اس کی اس پیش کش کو ٹھکرادیا۔( ابن ہشام : السیرۃ النبویۃ ۱:۶۱۳)
ایک دسرے موقعہ پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : واﷲ ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی لاکر رکھدیں تب بھی میں تبلیغ سے نہ رکوں گا ۔ اس پر بھی جب اسلام کی اشاعت جاری رہی تو دشمنانِ اسلام نے کمزور مسلمانوں پر ظلم و ستم اور جوروتعدی کی انتہاء کردی۔ ان کمزور مسلمانوں کو مشرکین بھوکا پیاسا رکھتے ، زدوکوب کرتے ، ننگی کمر پر کوڑے برساتے ۔ الغرض ہر طرح انہیں اذیت دیتے۔
مشرکین مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے ان بے کس مسلمانوں میں حضرت خباب بن الارت (م۳۷ھ) ، حضرت بلال حبشی (م۱۷ھ یا ۱۸ھ یا ۲۱ھ ) ، حضرت بن یاسر (م ۳۷ھ ) اور ان کی والدہ حضرت سمیہ ، حضرت صہیب رومی ، حضرت ابوفکیہ ، حضرت لبینہ اور زنیرہ وغیرہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں، جن کو روح فرسا طریقوں سے مارا پیٹا گیا۔ ( السھیلی : الروض الانف ۱:۲۰۲)
ان بلاکشانِ اسلام میں سے حضرت سمیہ کو ابوجہل نے نیزے کی انی مارکر شہید کردیا تھا ۔ صحابہ کرام پر ڈھائے جانے والے یہ مظالم یقینا نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر پر اثر کرتے تھے اور آپ کی پریشانیوں میں اضافہ کرتے تھے ۔ آپ نے ان کمزور مسلمانوں کو ان کے آقاؤوں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے اپنے مالدار صحابہ کو ترغیب دی کہ انھیں خریدکر آزاد کردیں، اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سات غلاموں اور باندیوں کو خریدکر ان مظالم سے رہائی دلائی ۔ ( ابن حجر : الاصابہ ، ۴:۳۹۹)
اس پر بھی جب دعوت اسلام کی تحریک جاری رہی تو بالآخر (۷) نبوی کو رؤسائے قریش کی باہمی مشاورت سے ایک معاہدہ ترتیب دیا گیا جس کے مطابق قریش اور ان کے حلیفوں نے نبی اکرم ﷺ کے خاندانِ ہاشم اور ان کے ہم نواؤں سے معاشی و معاشرتی عدم تعاون کافیصلہ کیایعنی ان پر معاشی پابندیاں عائد کیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح نبی اکرم ﷺ کو تبلیغ اسلام سے روکا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ اس معاہدہ کی رو سے تین باتوں پر حلف لیا گیا : ۱۔ ان سے مناکحت نہ کی جائے۔ ۲۔ان کو کوئی چیز فروخت نہ کی جائے ۔ ۳۔ ان سے کوئی چیز خریدی نہ جائے ۔ ( ابن الجوزی : الوفاء باحوال المصطفیٰ ، ۱:۱۹۷) پھر اس کو باقاعدہ معاہدہ کی صورت میں لکھ کر بیت اﷲ شریف پر لٹکادیا گیا اور یہ سلسلہ تین سال (۷ تا ۱۰ نبوی) تک جاری رہا ۔ اس دوران بنوہاشم اور ان کے بچوں کی حالت نہایت نازک رہی یہ لوگ سوکھے چمڑے کھاکر گزارہ کرتے رہے صرف موسم حج میں ان کو باہر نکلنے کی اجازت ہوتی تھی مگر دشمنوں کو ان پر رحم نہ آیا( السہیلی : الروض الانف، ۱:۲۳۱)
اندازہ کیجئے جب خاندان کے پھولوں سے نازک و معصوم بچے بھوک سے روتے اور بلکتے ہونگے تو نبی اکرم ﷺ کے رؤف و رحیم قلب مبارک پر کیا گزرتی ہوگی ؟
مشرکین مکہ نے جب یہ تمام حربے ناکام ہوتے ہوئے دیکھے تو انھوں نے ہادی عالم ﷺ سے بے سر و پا سوالات پوچھنا شروع کردیئے ۔ ایک موقعہ پر یہ مطالبہ کیا کہ ہم اس صورت میں آپ کو نبی مان سکتے ہیں کہ آپ مکہ مکرمہ کی خشک پہاڑوں سے میٹھے پانی کے چشمے جاری کرکے دکھائیں یا ا س سرزمین پر اپنے لئے کھجوروں اور انگوروں کا باغ اُگائیں جس کے درمیان نہریں چلتی ہوں یا آسمان کا کوئی تکڑا بطور عذاب ہم پر گرائیں یا اﷲ تعالیٰ یا فرشتوں کو ہمارے سامنے نمودار کرکے بتائیں۔ یا اپنے لئے کوئی موتیوں کا محل بناکر پیش کردیں۔ یا پھر ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور ہم سب کے نام اﷲ تعالیٰ کی طرف سے لکھے ہوئے خطوط لاکر دکھائیں۔ ان سب کے جواب میں آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کہہ دیں کہ میں تو اﷲ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا ہوں ( سورۂ بنی اسرائیل ) اور سورۃ الکہف میں دیکر ان کو لاجواب کردیا گیا ۔
جب ان کی یہ ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں تو انھوں نے سب کے آخر میں آپ ﷺ کے قتل کی ناپاک و گھناؤنی سازش تیار کی اور قریش کے تمام خاندانوں سے ایک ایک شخص کا انتخاب کیا اور یکبارگی آپ پر حملہ کرنا طئے کیا مگر اﷲ تعالیٰ نے اس وقعہ پر بھی آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ کے گھر سے غارثور پھر وہاں سے مدینہ منورہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس طرح دعوت و تبلیغ کا پہلا دور ختم ہوا ۔ (ماخوذ از سیرت خیرالانام)

TOPPOPULARRECENT