Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / دفتر قضات میں جعلی نوٹوں کے چلن کی تحقیقات

دفتر قضات میں جعلی نوٹوں کے چلن کی تحقیقات

اینٹی کرپشن بیورو کو تفصیلات فراہم کرنے وقف بورڈ عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد ۔ 9۔ اگست (سیاست  نیوز) ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں نے حج ہاؤز اور خاص طور پر شعبہ قضاۃ میں جعلی نوٹوں کے چلن کی تحقیقات سے اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے آج وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اینٹی کرپشن بیورو کو تفصیلات فراہم کریں تاکہ تحقیقات میں سہولت ہو۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی موجودگی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اے کے خاں نے کہا کہ اگر وقف بورڈ انہیں درکار معلومات اور ثبوت فراہم کرے گا تو وہ تحقیقات کرتے ہوئے خاطیوں کا پتہ چلانے تیار ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ ایک ہزار روپئے مالیتی جعلی نوٹ کو محفوظ رکھا گیا ہے اور بورڈ نے اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے نئی مشن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ شعبہ قضاۃ میں کرنسی نوٹوں کی اصلیت کا پتہ چلانے والی مشین نصب کی گئی ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں، چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ کو اے سی بی سے رجوع کردیں۔ اے کے خاں نے بتایا کہ اس قدر ہندوستان جیسے بڑے ملک میں 1.2 فیصد جعلی نوٹوں کا چلن ہوتا ہے، انہوں نے بتایا کہ ناسک میں واقع سیکوریٹی پرنٹنگ پریس میں 30 ہزار کروڑ روپئے کے ایسے نوٹ شائع کئے گئے جن پر سیکوریٹی کا دھاگہ نہیں تھا ۔ ان میں سے 21 ہزار کروڑ روپئے کی ریکوری کرلی گئی جبکہ باقی رقم کا چلن ابھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سے بڑے پیمانہ پر جعلی کرنسی ہندوستان میں پہنچ رہی ہے۔ اسی دوران چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے شعبہ قضاۃ میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا کام شروع کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ نئی مشین حاصل کی جارہی ہے تاکہ جعلی نوٹوں اور اس کا چلن عام کرنے والے افراد پر نظر رکھی جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے معاملہ رجوع کئے جانے کے بعد اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیدار شعبہ قضاۃ کے ملازمین سے پوچھ تاچھ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT