Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / دفتر چیف منسٹر اے پی میں اقلیتی امور کے انچارج عہدیدار کی عدم دلچسپی

دفتر چیف منسٹر اے پی میں اقلیتی امور کے انچارج عہدیدار کی عدم دلچسپی

وقف بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ، شیخ محمد اقبال کی میعاد میں توسیع میں ٹال مٹول
حیدرآباد ۔ 21۔  نومبر  (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو کے دفتر میں اقلیتی امور کے انچارج عہدیدار کی عدم دلچسپی کے باعث آندھراپردیش میں وقف بورڈ کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال کی میعاد میں توسیع سے متعلق فائل کی یکسوئی کے بجائے مذکورہ عہدیدار نے محکمہ اقلیتی بہبود سے وضاحت طلب کی ہے کہ وقف بورڈ کی تشکیل کی کارروائی کہاں تک پہنچی۔ واضح رہے کہ آندھراپردیش حکومت نے وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے فروری میں الیکشن آفیسر کی حیثیت سے جوائنٹ سکریٹری شریمتی اوشا کماری کا تقرر کیا ۔ انہوں نے آندھراپردیش کے تمام متولیوں کی فہرست وقف بورڈ سے طلب کی ہے تاکہ متولی زمرہ میں رائے دہی کیلئے ووٹرس کا انتخاب کیا جاسکے۔ ایسے متولی جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپئے ہے ، وہ رائے دہی کے اہل قرار پاتے ہیں۔ الیکشن آفیسر نے مسلم ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کی فہرست لوک سبھا اور اسمبلی سے طلب کی ہے۔ ایسے وقت جبکہ بورڈ کی تشکیل کا عمل جاری ہے ، 5 نومبر کو شیخ محمد اقبال کی میعاد ختم ہوگئی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اور وزیر اقلیتی بہبود نے میعاد میں توسیع کیلئے فائل چیف منسٹر کے دفتر روانہ کی لیکن اقلیتی امور کے انچارج عہدیدار اس معاملہ میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیدار مجاز کی عدم موجودگی کے باعث بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے اور کئی اہم فیصلے نہیں کئے جارہے ہیں۔ عدالتوں میں زیر دوران مقدمات اور غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی جیسے معاملات میں رکاوٹ پیدا ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے مسلم عوامی نمائندوں کی توجہ دہانی کے باوجود چیف منسٹر پیشی کے عہدیدار کو وقف بورڈ کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ وقف بورڈ کی تشکیل کے طریقہ کار کے اعتبار سے عہدیدار مجاز کی برقراری کے ذریعہ بھی اسے جاری رکھا جاسکتا ہے لیکن اس معاملہ میں توسیع کے بغیر محکمہ اقلیتی بہبود سے بورڈ کے بارے میں وضاحت طلب کرنا معنی خیز ہے۔ اسی دوران چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ ایل عبدالقادر نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے عہدیدار مجاز کے متبادل انتظامات کی خواہش کی تاکہ بورڈ کے ضروری امور کی تکمیل کی جاسکے۔ تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے مسلم عوامی نمائندوں نے بھی اس سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT