Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / دفعہ ۔35اے کے دفاع کی لڑائی صرف کشمیری مسلمانوں کی نہیں

دفعہ ۔35اے کے دفاع کی لڑائی صرف کشمیری مسلمانوں کی نہیں

جموں و لداخ والوں کے لیے بھی اہم دفعہ ، کشمیر کی شناخت فرقہ پرستوں کو روز اول سے کھٹکتی ہے: فاروق عبداللہ
سری نگر ، 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35اے  کے دفاع کی لڑائی صرف مسلمانوں یا کشمیریوں کی نہیں ہے بلکہ یہ دفعہ کشمیریوں کے مفادات کے لئے جتنی اہم ہے اُس سے زیادہ اہم لداخیوں اور جموں کے رہنے والے لوگوں کیلئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ35A آئین ہند میں جموں وکشمیر کی شناخت کی ضامن ہے اور بقول اُن کے یہ دفعہ فرقہ پرستوں کو روز اول سے ہی کھٹکتی آئی ہے۔ فاروق عبداللہ نے بدھ کو یہاں وادی کے مختلف علاقوں بشمول ڈورو شاہ آباد ،کولگام اور بیروہ کے عہدیداروں کے الگ الگ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘دفعہ35A مسلمانوں کے لئے جتنی ضروری ہے اُتنی ہی اہمیت کی حامل یہاں رہنے والے ہندؤں، سکھوں، بودھوں اور عیسائیوں کیلئے بھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھگوا جماعتیں ہمیشہ سے ہی ریاست کی انفرادیت کو ختم کرنے کے لئے سازشیں رچاتی آئی ہیں اور نیشنل کانفرنس عوامی اشتراک سے ان سازشوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرتی رہی ہے ۔ نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ اس وقت ریاست اور مرکزی میں ایسی جماعت برسراقتدار ہے ، جس نے یکساں سول کوڑ، رام مندر کی تعمیر اور جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے لئے عوام سے ووٹ مانگے اور انتخابات کو مذہبی رنگت دی۔ ایسے عزائم ملک کی سالمیت اور آزادی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا’ مرکزی حکومت کو ہوش کے ناخن لیکر ایسے عزائم سے باز رہنا چاہئے جن سے آگ کے شعلے بھڑکنے کا اندیشہ ہو۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ 2014ء میں جو سیلاب آیا وہ خود بہ خود واپس گیا اور ہم اُس کی تباہ کاریوں سے جوں توں کرکے پھر سے اپنی اپنی زندگی میں مشغول ہوگئے لیکن دفعہ 35A کے خاتمے کی صورت میں جو سیلاب آئے گا وہ نہ صرف دن بہ دن بڑھتا چلا جائے گا بلکہ تباہ کاریاں بھی کرتا چلا جائے گا اور کشمیری قوم کا وجود اور پہچان اس طوفان کی نذر ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جموں وکشمیر عوام کے ساتھ ساتھ یہاں کی سیاسی جماعتوں کو تمام اختلافات اور رنجشیں بالائے طاق رکھ کر میدانِ کارزار میں متحد ہوکر دفعہ 35A کے دفاع کے لئے صف آراء ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری آواز میں اُسی صورت میں وزن آسکتا ہے جب ہم متحد ہوں گے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ دفعہ 35A کے خاتمے سے کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ جموں وکشمیر زمین خریدنے کا اہل ہوسکتا ہے ، نوکری حاصل کرسکتا ہے اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی ڈال سکتا ہے ۔جس سے ہماری انفرادیت، پہچان اور کشمیریت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ ریاست کا آبادیاتی تناسب بگڑ جائے گا، بے روزگاری کے مسائل سے دوچار ہماری ریاست میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی کیونکہ غیر ریاستی اُمیدوار نوکریاں حاصل کرنے کے اہل بن جائیں گے ۔
فاروق عبداللہ نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ ہمارا دشمن مشترکہ ہے ، ہم سب کو ہوشیار رہنے کے ساتھ ساتھ ریاست کو دفعہ 35 اے کی صورت میں درپیش چیلنج کامل کر سیاسی اور قانون طور پر دفاع کرنا ہوگا۔ ان اجلاسوں میں این سی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر ،صوبائی صدور ناصر اسلم وانی ، دیوندر سنگھ رانا اور جنوبی زون صدر سکینہ ایتو، ممبران قانون سازیہ ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، الطاف احمد کلو، سابق وزیر پیر زادہ احمد شاہ، صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار اور دیگر پارٹی عہدیدار بھی موجودتھے ۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT