Wednesday , March 29 2017
Home / شہر کی خبریں / دلآزار پوسٹ پر احتجاج کے بعد 3 مقدمات درج

دلآزار پوسٹ پر احتجاج کے بعد 3 مقدمات درج

تین نوجوان گرفتار‘ پولیس کی لاپرواہی گڑبڑ ـکا سبب‘شکایت پر فوری ایف آئی آر کی اجرائی میں تاخیر
حیدرآباد /14 نومبر ( سیاست نیوز ) خانہ کعبہ کی بے حرمتی اور دلآزار پوسٹ فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کے بعد کل رات دیر گئے پرانے شہر میں نوجوانوں کی جانب سے احتجاج کے نتیجہ میں ساؤتھ زون پولیس نے تین مقدمات درج کرتے ہوئے بعض نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس نے شعبہ انٹلیجنس اور اسپیشل برانچ کی جانب سے اس واقعہ سے متعلق رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد سنتوش نگر ، مغل پورہ اور چارمینار پولیس اسٹیشن میں تین مقدمات درج کئے تھے ۔ پولیس نے پرانے شہر میں پیدا شدہ کشیدہ حالت کے نتیجہ میں تین نوجوانوں ایم اے حبیب ، محمود اور اشفاق کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر پیش کیا گیا جہاں ان کی ضمانت منظور کرلی گئی ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے اپنے زون سے وابستہ تمام انسپکٹران ، اسسٹنٹ کمشنران اور دیگر پولیس عہدیداروں کا ایک اجلاس منعقد کیا ۔ اس اجلاس میں ماتحت عہدیداروں کو یہ واضح ہدایت دی گئی ہے کہ سوشیل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس ، فیس بک ، واٹس اپ وغیرہ پر دلآزار اور بے حرمتی والے پوسٹ موجود ہونے کی شکایت پر فی الفور کارروائی کی جائے اور اس سلسلے میں ایف آئی آر جاری کرنا لازم کردیا ۔ سنتوش نگر واقعہ سے متعلق انٹلیجنس رپورٹ موصول ہوئی ہے جس میں بتایا گیا کہ بعض نوجوانوں نے دلآزار پوسٹ موجود ہونے کی شکایت سنتوش نگر پولیس کی تھی لیکن پولیس نے بروقت کارروائی نہ کرتے ہوئے ایف آئی آر کی اجرائی میں تاخیر کی جس کے سبب نوجوان برہم ہوگئے اور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ اجلاس کے بعد ڈی سی پی مسٹر ستیہ نارائنا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ سنٹرل کرائم اسٹیشن کی سائبر کرائم پولیس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ دل آزار پوسٹ امریکہ ،شکاگو اور ملیشیاء سے اپ لوڈ کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ شرانگیزی میں ملوث خاطی کا تعلق ریاست سے ہونے پر اسے اندرون چند گھنٹے گرفتار کیا جائے گا جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے تعلق ہونے پر کچھ دنوں میں اس کی نشاندہی کرلی جائے گی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT