Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / دلائی لامہ سے ملاقات کرنے ٹرمپ کو ریپبلکن کانگریس مین کا مکتوب

دلائی لامہ سے ملاقات کرنے ٹرمپ کو ریپبلکن کانگریس مین کا مکتوب

ٹرمپ اپنے پہلے 100 دن میں نریندر مودی سے ملاقات کا پروگرام بنائیں : تھنک ٹینک

واشنگٹن ۔ 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن کے ایک اعلیٰ سطحی کانگریس مین نے نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہیکہ موصوف کو جلاوطن تبتی روحانی پیشوا دلائی لامہ سے ملاقات کرنا چاہئے تاکہ تبت اور چین کے درمیان قیام امن کو یقینی بنایا جاسکے۔ کانگریس مین جم سیننبرینر نے ٹرمپ کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا جس کی ایک نقل کل جاری کی گئی۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں ٹرمپ سے کہا کہ موصوف جس طرح امریکی صدر کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل عالمی قائدین سے ملاقاتیں کررہے ہیں لہٰذا اس موقع پر میں آپ کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ملاقاتیوں کی طویل فہرست میں تقدس مآب دلائی لامہ کا نام بھی شامل کرلیں۔ یاد رہیکہ 8 نومبر کو امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ اور ان کے نومنتخبہ نائب صدر مائیک پنس نے زائد از 50 عالمی قائدین بشمول وزیراعظم ہند نریندرمودی سے بات کی ہے البتہ ٹرمپ کو تائیوان کے صدر کی  جانب سے مبارکبادی کا جو فون کال موصول ہوا تھا اس پر چین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ یہ امریکہ کی روایت رہی ہیکہ ملک کے صدور نے دلائی لامہ کے ساتھ اپنے تعلقات خوشگوار رکھے ہیں جو انہیں تبتی شہریوں کا روحانی پیشوا تصور کرتے ہیں اور اس حیثیت سے ان کی عزت و توقیر کی جاتی ہے۔

تاہم کوئی بھی امریکی صدر جب وائیٹ ہاؤس میں دلائی لامہ سے ملاقات کرتا ہے تو چین کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔ اب تک ٹرمپ نے 81 سالہ دلائی لامہ سے بات نہیں کی ہے اور شاید یہی وجہ ہیکہ ری پبلکن کانگریس مین نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے منتخبہ صدر کو دلائی لامہ سے ملاقات کرنے کا مشورہ دیدیا۔ سینسبرینر نے کہا کہ تبتی عوام کو اپنی ثقافت، زبان، قومی اثاثے اور مذہب کے تحفظ کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ چینی حکومت سے آزادی کیلئے تبتی عوام نے سالہاسال سے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے جبکہ چین نے تبتی عوام کی خودمختاری تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے اور تبتی عوام کے ذریعہ کئے جانے والے احتجاجی مظاہروں کو کچل کر رکھ دیا۔ سینسنریز نے 1979ء میں دلائی لامہ سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ 1957ء میں اپنی جلاوطنی سے لیکر آج تک دلائی لامہ نے تبت اور چین کے درمیان تنازعہ کی پرامن یکسوئی کی ہمیشہ وکالت کی۔ 1989ء میں دلائی لامہ کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا جس کے بعد تبت میں چین کے قبضہ کے خلاف پرامن احتجاج کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔ دوسری طرف امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے تین ماہرین نے منتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہیکہ وہ ’’مائل بہ عروج‘‘ ہندوستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کو ترجیح دیں کیونکہ ہندوستان اس وقت دنیا کی ایک ابھرتی معیشت ہے۔

اگر ٹرمپ انتظامیہ نے ’’یکساں سوچ‘‘ رکھنے والے ہندوستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں پہل کی تو یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جیت کے مترادف ہوگا جس کیلئے سینئر سطح کے عہدیداروں کو جن کا تعلق سرکاری محکمہ جات سے ہو، وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات کرنے چاہئے جس سے ہندوستان اور امریکہ ایک دوسرے کے مزید قریب آسکیں۔ وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے جس طرح ہندوستان کا دورہ کیا اسی طرح ہندوستان کے کسی وزیر کو بھی امریکہ کا وقتاً فوقتاً دورہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے قریب کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہئے۔ یاد رہیکہ ہند ۔ امریکہ دفاعی تعلقات یوں تو کافی پرانے ہیں لیکن گذشتہ تین سالوں میں ان تعلقات کو نئی جہت حاصل ہوئی۔ اب جبکہ ٹرمپ اوران کی قومی سلامتی ٹیم ٹرمپ انتظامیہ کیلئے اہم ترجیحات کی شناخت میں لگی ہوئی ہے وہیں ہند۔ امریکہ تعلقات کو مزید استحکام بخشنا ان کے ایجنڈہ میں سب سے اوپر ہونا چاہئے۔ اسی طرح ٹرمپ کو اپنے عہدہ کا حلف لینے کے بعد صدر کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے پہلے 100 دن کے اندر ہی وزیراعظم ہند نریندر مودی سے ملاقات کا پروگرام بنانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT