Friday , May 26 2017
Home / دنیا / دلائی لامہ کے مجوزہ دورہ اروناچل پر چین کا احتجاج

دلائی لامہ کے مجوزہ دورہ اروناچل پر چین کا احتجاج

بیجنگ۔3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج ہندوستان کو تبت کے روحالی پیشوا دلائی لامہ کے مجوزہ دورہ اروناچل پردیش کے خلاف انتباہ دیا ہے اور یہ تک کہہ دیا کہ اگر دلائی لامہ کو اروناچل پردیش کے دورہ کی اجازت دی گئی تو اس سے ہند۔چین تعلقات میں بگاڑ اور متنازعہ سرحدی علاقوں میں نقص امن بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ دریں اثناء چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین کو اس بات پر شدید تشویش لاحق ہے کہ ہندوستان نے دلائی لامہ کو اروناچل پردیش کے دورہ کی اجازت دی ہے۔ چین کا دعوی ہے کہ اروناچل پردیش تبت کا حصہ ہے اور کسی بھی اعلی سطحی قائد کے اروناچل کے دورہ کی وقتاً فوقتاً مخالفت کرتا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی جب اروناچل پردیش حکومت کی جانب سے مدعو کئے جانے پر جب دلائی لامہ نے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا تو اس وقت بھی چین نے احتجاج کیا تھا۔ بہرحال جاریہ سال بھی دلائی لامہ کا دورۂ اروناچل مقرر ہے۔ چین نے ہمیشہ یہ کہہ کر اپنا موقف مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے کہ دلائی لامہ کو متنازعہ مقامات کے دورہ سے گریز کرنا چاہئے۔ دلائی لامہ ہمیشہ سے ہی چین مخالف علیحدگی پسند نظریات کے حامل رہے ہیں اور جہاں تک چین۔ہندوستان سرحد کا مشرقی علاقہ ہے، وہ ہمیشہ سے ہی متنازعہ رہا ہے جو بالکل واضح بات ہے۔ مسٹر گینگ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سے ہی دلائی لامہ کے تنازعہ کی سنگینی کو سمجھتا ہے اور ہند۔چین سرحدی معاملات پر جتنے بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں، ہندوستان ان سے بھی بخوبی واقع ہے۔ لہٰذا ایک ایسے وقت جب ہندوستان دلائی لامہ کو حساس اور متنازعہ علاقوں کے دورہ کی دعوت دیتا ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ اس علاقہ کے امن کو دائو پر لگادینا ہے اور ہند۔چین تعلقات میں بگاڑ کو دعوت دے رہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT