Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / دلتوں کیخلاف مظالم پر وزیراعظم، مگرمچھ کے آنسو نہ بہائیں

دلتوں کیخلاف مظالم پر وزیراعظم، مگرمچھ کے آنسو نہ بہائیں

مباحثہ کی اجازت نہ دینے پر لوک سبھا سے کانگریس کا واک آئوٹ

نئی دہلی۔8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دلتوں کے خلاف گائو رکشکوں کے حملوں پر وزیراعظم نریندر مودی کی تنقیدوں کے ایک دن بعد کانگریس نے آج لوک سبھا میں ہنگامہ برپا کردیا اور کہا کہ وزیراعظم کو مگرمچھ کے آنسو بہانے کی بجائے عملی اقدامات کرنا چاہئے۔ کانگریس ارکان نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کو اس مسئلہ پر ٹوئٹ کرنے کے بجائے ایوان میں بیان دینا چاہئے۔ بعدازاں انہوں نے واک آئوٹ کردیا۔ وقفہ صفر شروع ہوتے ہی کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے جب اسپیکر سمترا مہاجن نے یہ مسئلہ اٹھانے کے لئے پارٹی لیڈر ملکارجن کھرگے کو اجازت نہیں دی۔ اسپیکر نے کہا کہ چونکہ انہیں کوئی نوٹس نہیں دی گئی ہے لہٰذا وقفہ صفر کی تکمیل کے بعد ہی کھرگے کو خطاب کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کانگریس ارکان سے بارہا اپیل کی کہ اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں کئی ایک چھوٹی جماعتیں ہیں ان کے ساتھ بھی انصاف کرنے کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء اس مسئلہ پر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیر پارلیمانی امور اننت کمار کو ملکارجن کھرگے سے مشاورت کرتے دیکھا گیا

لیکن کانگریس ارکان بدستور احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ وزیراعظم ایوان میں آکر اس مسئلہ پر بیان دیں۔ احتجاجی ارکان نے یہ نعرے بلند کئے کہ ’’وزیراعظم مگر مچھ کے آنسو نہ بہائیں۔ اور نہ ہی ٹوئٹ کریں۔ دلتوں پر مظالم ڈھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔‘‘ کانگریس ارکان بظاہر اس مسئلہ پر افہام تفہیم کیلئے آمادہ نہیں تھے۔ اسپیکر کے فیصلے کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کردیا۔ دریں اثناء سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے آج کہا کہ دلتوں کے مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی کو ڈرامہ بازی روک دینا چاہئے اور سنگھ پریوار کے لیڈروں کو قابل اعتراض اور اشتعال انگیز بیانات سے باز رکھا جائے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں ایک جلسہ سے خطاب کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے یہ جذباتی اپیل کی کہ تھی کہ دلتوں کا قتل و خون نہ کریں بلکہ مجھے گولی ماردی جائے انہوں نے نقلی گائورکشکوں کو وارننگ دی کہ دلتوں کے خلاف مظالم ڈھانے پر سخت کارروائی کی جائے۔ کانگریس لیڈر نے پارلیمنٹ کے باہر اس طرح کا بیان دینے پر سوال اٹھایا جبکہ پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تو باسودیو کٹمبکم (دنیا ایک ہے) کی بات کرتے ہیں لیکن جب تمہارے لوگ اخلاق کا قتل کرتے ہیں آپ خاموش اختیار کرلیتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں گائو رکھشا کی آڑ میں دلتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حتی کہ جھارکھنڈ میں ایک نوجوان کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی کہاں گیا تمہارا نعرہ واسو دیو کٹمبکم لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ دوغلا پن اور ڈرامہ بازی روک دی جائے اور نقلی گائو رکشکوں کو حملوں سے روکنے سے قاصر ہیں تو وزارت عظمی کے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔

TOPPOPULARRECENT