Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دلتوں کے حقوق کی لڑائی میں ہندوستان کے تعاون کی ستائش

دلتوں کے حقوق کی لڑائی میں ہندوستان کے تعاون کی ستائش

ایس آر شنکرن میموریل لکچر، نیپال کے سابق ایم پی و دلت قائدبنود پہاڑی کا خطاب

حیدرآباد۔10اکٹوبر(سیاست نیوز) سنٹر فار دلت اسٹڈیز کے زیر اہتمام پانچواں ایس آر شنکرن میموریل لکچر سندریا وگیان کیندرم میں منعقد ہوا۔ آج یہاں منعقدہ اس لکچر کا عنوان نیپال کا دستور اور دلت مقرر کیا گیا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے نیپال کے سابق رکن پارلیمنٹ اور نیپالی دلت سماج کے ممتاز لیڈر بنود پہاڑی نے نیپال میں دلتوں کے حقوق کی لڑائی میں ہندوستانیوں کے عظیم تعاون کی ستائش کی۔انہوں نے مزیدکہاکہ نیپال اور ہندوستان کے درمیان روٹی اور بیٹی کا رشتہ ہے مگر نیپال میںجاری دستور کی لڑائی اُس وقت کمزور دکھائی دی رہی ہے جب حکومت ہند کی جانب سے نیپالی سرحدوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے جس کے سبب ہزاروں کی تعداد میں نیپالی عوام کو مشکلات کاسامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔مسٹر بنود پہاڑی نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی ہندوستان اور نیپال کی مشترکہ تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جس طرح ہندوستان میں دلت سماج کے لئے تحفظات کو یقینی بنایا گیا ہے اسی طرح نیپال میںبھی دلتوں کے ساتھ انصاف کی راہیںہموار ہوجاتیں تو نیپال کا دلت سماج آج پسماندگی کاشکار نہیں ہوتا۔ انہو ںنے تحفظات کی تحریک کو چھوڑ کر نیپال کے دلت سماج نے ہندوستان کی ہر تحریک کو نیپال میں کامیابی کے ساتھ آزمایا ہے۔ نیپال کے موجود ہ دستور میں کچھ حد تک نیپالی دلتوں کو مراعات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے لئے پچھلے کئی سالوں سے نیپال کا دلت سماج جدوجہد کررہا تھا ۔ انہوں نے کہا سارے ممالک کے تمام دلت طبقات کا ایک متحدہ پلیٹ فارم تیار کرنے کی ضرورت ہے جس میں ہندوستان کے دلت طبقات کی فلاح وبہبود میںچلائی جارہی تحریک کے علمبرداروں کا تعاون ضروری ہے۔ مسٹر بنود پہاڑی نے ہندوستان سے جڑی ہوئی نیپالی سرحدوں پر کی گئی ناکہ بندی کو ختم کرنے کے لئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا اور نمائندگی کی بھی عوام سے اپیل کی تاکہ ناکہ بندی کی وجہہ سے نیپال کے سرحدی علاقوں میں جہاں پر دلت طبقات کی اکثریت پائی جاتی ہے انہیں درپیش مسائل کو دور کیا جاسکے۔ مذکورہ لکچر کی صدارت مسٹر رام چندر مورتی نے کی جبکہ سابق چیف سکریٹری حکومت آندھرا پردیش کاکی مادھور رائو کے علاوہ بی کے ریم بہادر ڈائرکٹر جاگران میڈیا سنٹر نیپال نے بھی اس لکچر سے خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT