Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / دلت خودکشی کیس : سمرتی ، دتاتریہ کو برطرف کردینے کانگریس کا مطالبہ

دلت خودکشی کیس : سمرتی ، دتاتریہ کو برطرف کردینے کانگریس کا مطالبہ

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت اسٹوڈنٹس کیخلاف کارروائی کیلئے بی جے پی ایم پی نے مرکزی وزیر کو مکتوب لکھا تھا

پارٹی ایم ایل اے اور اے بی وی پی کارکنان بھی ہتک میں ملوث
نئی دہلی ، 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایک دلت طالب علم کی حیدرآباد میں خودکشی کے معاملے پر جارحانہ رُخ اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے آج مطالبہ کیا کہ فروغ انسانی وسائل (ایچ آر ڈی) کی وزیر سمرتی ایرانی کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر محنت بنڈارو دتاتریہ کو بھی برطرف کردینا چاہئے، جن کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ پارٹی ترجمان کماری شیلجا نے یہاں میڈیا والوں کو بتایا کہ سمرتی اور بنڈارو دونوں کو مستعفی ہوجانا چاہئے یا پھر وزیراعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ دونوں کو برطرف کرتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کریں۔ شیلجا نے کہا کہ وزیر ایچ آر ڈی نے سارے ملک کو ’’گمراہ‘‘ کیا کیونکہ انھوں نے اس مسئلے پر متعدد مکتوبات تحریر کئے اور یہ کہ دتاتریہ ’’اے بی وی پی کو بڑھاوا دینے کی خاطر دلت اسٹوڈنٹس کے خلاف‘‘ ہیں۔ ’’یہ معاملہ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے اُس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وزیراعظم کو ضرور اس معاملے پر لب کشائی کرتے ہوئے دونوں وزراء کے خلاف کارروائی کرنا چاہئے،‘‘ شیلجا نے یہ بات کہی جبکہ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی دہلی سے روانہ ہوئے تاکہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی (ایچ سی یو) کا دورہ کرتے ہوئے اسٹوڈنٹس سے ملاقات کی جائے، جہاں ایک دلت اسکالر کی مبینہ خودکشی پر زبردست احتجاج چھڑ گیا ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی خاموشی توڑنا چاہئے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بی جے پی وزراء نے دلتوں کے مفاد کے مغائر کام کیا۔ کئی دیگر بھی دلتوں کے تعلق سے غلط زبانی کرچکے ہیں۔ اور اس لئے ساری بی جے پی اور وزیراعظم کٹھہرے میں ہیں۔ دلت ریسرچ اسکالر کی نعش یونیورسٹی کے ہاسٹل روم میں لٹکتی پائی گئی، جس کے ساتھ ہی احتجاجوں کا سلسلہ چل پڑا۔ دتاتریہ اور اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر دلت طالب علم کی مبینہ خودکشی پر گزشتہ روز ایف آئی آر میں نامزد کئے گئے۔

یہ مسئلہ نے ان الزامات کے ساتھ سیاسی موڑ لے لیا کہ طالب علم کا انتہائی اقدام دلت طلبہ کے خلاف امتیاز برتنے کا شاخسانہ ہے، جو دتاتریہ کی ایماء پر کیا گیا جنھوں نے سمرتی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے دلت اسٹوڈنٹس کی ’’مخالف قوم حرکتوں‘‘ کے خلاف کارروائی چاہی تھی۔ متوفی طالب علم روہت ویمولا جو اُن پانچ ریسرچ اسکالرز میں سے تھا جو گزشتہ سال اگسٹ میں یونیورسٹی کی جانب سے معطل کئے گئے تھے اور ایک اسٹوڈنٹ لیڈر پر حملے سے متعلق کیس کے ملزمین میں سے بھی تھا۔ انھیں ہاسٹل سے بھی دور رکھا گیا تھا۔ شیلجا نے کہا کہ عوامی گوشہ میں دستیاب حقائق یہ بات ’’واضح طور پر قائم کرتے‘‘ ہیں کہ دتاتریہ، بی جے پی رکن اسمبلی رامچندر راؤ اور اے بی وی پی کارکنان ’’روہت کی افسوسناک خودکشی کا موجب بننے والے حالات دانستہ طور پر پیدا کرنے کے صریح ذمہ دار ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا کہ یہ خوفناک واقعہ مودی حکومت کے مسلسل جاری ایجنڈے کا حصہ ہے کہ محروم اور نادار بالخصوص درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق سلب کئے جائیں، جس کا گزشتہ 19 ماہ میں آشکار ہوا ہے۔ 25 سالہ دلت کی مبینہ خودکشی کوئی تنہا واقعہ نہیں بلکہ یونیورسٹی کیمپس میں دلتوں کے سماجی بائیکاٹ اور اے بی وی پی کارکنوں کا دلتوں کے خلاف ہتک آمیز فقرے کسنے کا ناپاک شاخسانہ ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ دلت برادری کے خلاف یہ تحقیر یونیورسٹی حکام کی سرگرم سرپرستی کے ساتھ کی گئی ہے۔ شیلجا نے کہا کہ اس یونیورسٹی کے پانچ دلت پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالرز گزشتہ سال اگسٹ میں معطل کئے گئے لیکن یونیورسٹی کے ’پروکٹریل بورڈ‘ کی جانب سے تحقیقات نے روہت اور ان کے رفقاء کو ’کلین چٹ‘ دے دی تھی۔ وہ پانچوں دلت اسٹوڈنٹس کو بے قصور قرار دیئے جانے کے باوجود انھیں دتاتریہ، بی جے پی ایم ایل اے اور اے بی وی پی کارکنوں کے اشاروں پر دِق کیا گیا اور اُن کی ہتک کی گئی، جس کے نتیجے میں آخرکار انھیں کیمپس سے استفادہ سے منع کردیا گیا اور ہاسٹل احاطے سے خارج کیا جارہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT