Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / دلت طالب علم کی خودکشی‘ دتا تریہ‘ اپا راؤ کے خلاف ایف آئی آر

دلت طالب علم کی خودکشی‘ دتا تریہ‘ اپا راؤ کے خلاف ایف آئی آر

مرکزی وزیر محنت‘ وائس چانسلر پر روہت کو خودکشی کیلئے مجبور کرنے کا الزام ‘ برہم طلبہ کا حیدرآباد سے دہلی تک احتجاج
حیدرآباد ۔ 18جنوری ( پی ٹی آئی ) حیدرآباد یونیورسٹی کے ایک دلت طالب علم وی روہت کی مبینہ خودکشی کے ضمن میں مرکزی وزیر محنت و روزگار بنڈارو دتا تریہ اور حیدرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپا راؤ کے نام بھی ایف آئی آر میں شامل کئے گئے ہیں ۔ اس دوران دلت اسکالر کی مبیہ خودکشی کے خلاف طلبہ کا احتجاجشدت اختیار کرگیا ۔ دتاتریہ و اپا راؤ کی ان کے عہدوں سے برطرفی کے مطالبہ میں بھی شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ مسئلہ اس وقت سنگین سیاسی موڑ اختیار کرگیا جب یہ الزامات بھی منظر عام پر آئے کہ دتاتریہ کی ایماء پر اس یونیورسٹی کے دلت طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ ہی دراصل روہت کے انتہائی اقدام کا نتیجہ ہے کیونکہ دتا تریہ نے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے’’ ملک دشمن سرگرمیوں ‘‘ کی پاداش میں ان طلبہ کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد گذشتہ سال اگست میں بشمول روہت ویمولہ پانچ دلت ریسرچ اسکالرس کو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے معطل کردیا گیا تھا ۔ انہیں ہاسٹل کے باہر رکھا جارہا تھا ۔ روہت گذشتہ چند دن سے کیمپس کے باہر ایک خیمہ میں راتیں گذآرنے پر مجبور ہوگیا تھا ۔ روہت کی موت کے بعد حیدرآباد میں پھوٹ پڑنے والا احتجاج قومی دارالحکومت  نئی  دہلی تک پہنچ گیا ‘ جہاں برہم طلبہ نوجوانوں نے وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کے دفتر اور رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظآہرہ کیا ‘ جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی نے کہا کہ وہ کوئی سیاسی بیان دینا نہیں چاہتیں بلکہ حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا ۔ ایرانی نے مزید کہاکہ یونیورسٹی پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس کے انتظامی اُمور میں مداخلت کرتی ہے ۔ انہوں نے طالب علم کی موت پر سخت افسوس کا اظہار کیا ۔ اس دوران حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپاراؤ نے کاہ کہ اگر طلبہ ‘ فیکلٹی اور انتظامیہ کی اکثریت چاہتی ہے تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے منظر عام پر آنے سے بہت پہلے ہی دلت طلبہ کے خلاف کارروائی کی جاچکی تھی اور وہ سزاؤں میں کمی کی کوشش کررہے تھے ۔ گچی باؤلی کے انسپکٹر جے رمیش کمار نے پی ٹی آئی سے کہا کہ’’ ہم ( مرکزی وزیر) بنڈارو دتا تریہ ‘ وائس چانسلر اپا راؤ ( بی جے پی ) ایم ایل سی سی رامچندر راؤ اور ( بی جے پی کے شعبہ طلبہ اے بی وی پی کے قائدین)  سشیل کمار اور راما کرشنا کے خلاف ہندوستانی تعزیری دفعہ 306 ( خودکشی کیلئے اکسانے) کے علاوہ قانون درج فہرست طبقات و قبائلی ( انسداد و مظالم ) کے تحت ایف آئی آر درج کرچکے ہیں ‘‘ ۔ پانچ معطل شدہ طلبہ میں شامل ڈی پرشانت نے کہا کہ’’ دتاتریہ کو کابینہ سے اور رامچندرا راؤ ایم ایل سی کے عہدہ سے برطرف کیا جانا چاہیئے ۔ اپا راؤ کو بھی وائس چانسلر کے عہدہ دے ہٹایا جانا چاہیئے ۔‘‘  طلبہ نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی سے پانچ طلبہ کی معطلی میں دتاتریہ کا کلیدیرول رہا ہے ۔ تاہم دتاتریہ نے مبینہ خودکشی کے ضمن میں ان پر عائد الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس مسئلہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دتاتریہ نے مزید کہا کہ ’’ اس یونیورسٹی میں ملک دشمن اور سماج دشمن سرگرمیاں جاری تھیں ‘‘ ۔ اے بی وی پی کے طلبہ کو زدوکوب کی گئی تھی اس وقت اے بی وی پی نے نمائندگی کی تھی ۔ اس نمائندگی کو میں نے وزارت ( فروغ انسانی وسائل) سے رجوع کیا تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں ( وزارت  فروغ انسانی وسائل ) نے کیا کارروائی ‘‘ ۔ روہت کی نعش کیمپس کے ایک کمرہ میں چھت سے لٹکتی ہوئی پائی گئی تھی اور جب پولیس آج صبح نعش لینے پہنچی طلبہ میں زبردست کشیدگی پھیل گئی تھی ۔ اس کی نعش بغرض پوسٹ مارٹم ہاسپٹل منتقل کردی گئی ہے ۔ یونیورسٹی کے طلبہ کے علاوہ فیکلٹی و انتظامیہ کے چند ارکا میں بھی  اس واقعہ پر زبردست برہمی پیدا ہوگئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT