Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / دلت طلباء پر لاٹھی چارج کے خلاف بہار اسمبلی میں ہنگامہ

دلت طلباء پر لاٹھی چارج کے خلاف بہار اسمبلی میں ہنگامہ

مارشلس کے ہاتھوں سے پھسل کر ایک رکن اسمبلی زخمی، باب الداخلہ پر اپوزیشن کا دھرنا
پٹنہ۔4 اگست (سیاست ڈاٹ کام) احتجاجی دلت طلباء پر پولیس لاٹھی چارج کے خلاف بہار اسمبلی میں آج اپوزیشن کے زبردست احتجاج سے کارروائی مفلوج ہوگئی جبکہ احتجاج کے دوران ایک میز پر سے ڈھکیل دینے سے ایک رکن اسمبلی نیچے گرپڑے۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن لیڈر پریم کمار اور سابق چیف منسٹر جین رام مانجھی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور شہر میں کل دلت طلباء کو پولیس کی جانب سے زدوکوب کئے جانے کے مسئلہ پر مباحث کروانے کا اسپیکر سے مطالبہ کیا۔ جبکہ یہ طلباء مابعد میٹرک اسکالرشپس میں کٹوتی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اسپیکر وجئے کمار چودھری نے جب اس مطالبہ کو مسترد کردیا تو بی جے پی اور حلیف جماعتوں نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر حکومت کے خلاف نعرے بلند کرنے لگے۔ پریم کمار مانجھی اور سینئر بی جیپی لیڈر ننکشور یادو نے بھی فرش پر بیٹھ کر احتجاج کیا۔ دریں اثناء سی پی آئی (ایم ایل) کے رکن اسمبلی محبوب عالم نے بھی اپوزیشن کے احتجاج میں شامل ہوکر ایک میز پر چڑھ گئے اور ایک پلے کارڈ تھامے ہوئے تھے جس پر اسپیکر نے مارشلس کو حکم دیا کہ انہیں نیچے اتاردیں۔ مارشلس نے انہیں جسمانی طور پر نیچے اتارنے کی کوشش میں تھے کہ وہ پھسل کر گرپڑے، ایک طرف محبوب عالم کو نیچے اترا جارہا تھا تو دوسری طرف بعض بی جے پی ارکان اسمبلی وجئے سنہا اور سنجے چوراسیہ اس میز (ٹیبل) پر چڑھ گئے بعدازاں انہیں بھی مارشلس نے نیچے اتاردیا۔ سی پی آئی (ایم ایل) کے رکن اسمبلی کو بعدازاں بی جے پی ارکان اسمبلی نے ایک ایمبولینس کے ذریعہ پٹنہ میڈیکل کالج منتقل کردیا۔ اگرچیکہ اسپیکر نے وقفہ صفر منعقد کرنے کی کوشش کی لیکن ایوان میں نظم و ضبط بحال نہ ہونے پر کارروائی ملتوی کردی۔ این ڈی اے کے ارکان اسمبلی نے باب الداخلہ پر دھرنا دیتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بلند کرتے رہے۔ واضح رہے کہ ایس سی، ایس ٹی طلباء کے اسکالرشپ میں کٹوتی کے خلاف کل احتجاج کے دوران سنگباری اور لاٹھی چارج میں 7 پولیس ملازمین اور 6 طلباء زخمی ہوگئے تھے اور اپوزیشن بی جے پی نے اس مسئلہ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT